انٹرٹینمنٹ

راجیش کھنہ اور سلمان خان کی حیران کن کہانی: "آشیرواد” کی فروخت کی پیشکش اور ایک ڈرامائی موڑ

بالی ووڈ کے پہلے سُپراسٹار راجیش کھنہ اور حال کے سپر اسٹار سلمان خان سے جڑی ایک پرانی مگر حیران کن کہانی ایک بار پھر شوبز حلقوں میں زیرِ بحث آئی ہے۔ یہ کہانی حال ہی میں معروف کتاب ڈارک اسٹار: دی لونلی نیس آف بینگ راجیش کھنہ میں بھی بیان کی گئی ہے، جسے اب دوبارہ چھیڑا جا رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا آیا جب راجیش کھنہ شدید مالی دباؤ کا شکار تھے اور ان ہی دنوں سلمان خان نے ایک حیرت انگیز پیشکش کی۔ سلمان خان نے ممبئی کے مشہور علاقے کارٹر روڈ پر واقع راجیش کھنہ کے تاریخی بنگلے آشیرواد کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

یہ پیشکش صرف بنگلے کی خریداری تک محدود نہیں رہی تھی، بلکہ سلمان خان نے راجیش کھنہ کو یہ بھی کہا کہ وہ کسی فلم میں بغیر معاوضہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ان کی مالی مشکلات کم ہو سکیں۔ لیکن یہ پیشکش راجیش کھنہ نے نہایت منفی انداز میں لی۔

راجیش کھنہ، جو سب کی زبان پر “کاکا” کے طور پر معروف تھے، نے سلمان خان کی پیشکش کو سازش سمجھا اور یہ خیال کیا کہ سلمان خان ان کے بنگلے کو خرید کر انہیں مالی اور سماجی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ سلمان خان انہیں "سڑک پر” لانا چاہتے ہیں۔ اس بداعتمادی کے باعث، راجیش کھنہ نے آشیرواد بیچنے سے صاف انکار کر دیا۔

آشیرواد کبھی راجیش کھنہ کی شان و شوکت کی علامت تھا، جہاں وہ بادشاہوں کی طرح دربار لگایا کرتے تھے۔ کتاب میں ذکر ہے کہ وہ ایک اونچی کرسی پر بیٹھ کر پروڈیوسرز کو باہر انتظار کرواتے تھے، اور گھر کے اندر تک رسائی صرف خاص لوگوں کو حاصل تھی۔ ان کے ریشمی لنگی اور کرتا ان کی پہچان بن چکے تھے۔

لیکن وقت کی گردش نے راجیش کھنہ کا ستارہ مدھم کر دیا۔ ان کی غیر سنجیدہ عادات، وقت کی پابندی نہ کرنے، نشے کی عادت اور نائٹ پارٹیز نے انہیں پروڈیوسرز کے ساتھ مشکلات میں ڈال دیا، اور ان کا کیریئر کمزور پڑنے لگا۔ ایک وقت ایسا آیا جب بالی ووڈ میں محاورہ بن گیا کہ "اوپر آقا اور زمین پر کاکا” یعنی جسے کاکا کہیں اسے ہی کام ملے گا۔

1973 کے بعد، پروڈیوسرز کو امیتابھ بچن کی صورت میں راجیش کھنہ کا متبادل مل چکا تھا۔ اینگری ینگ مین کے طور پر مشہور امیتابھ کے ابھرنے سے راجیش کھنہ کا ستارہ مدھم پڑنے لگا، اور یوں وہ اپنے شاہانہ مزاج اور عادات کے ساتھ مالی مسائل کا شکار ہو گئے۔

راجیش کھنہ کی مالی مشکلات کے بڑھنے کے ساتھ، وہ اپنے آشیرواد بنگلے میں تنہائی کی زندگی گزارنے لگے۔ سلمان خان کی عاجزانہ پیشکش کو سازش سمجھ کر ٹھکرانے والے راجیش کھنہ نے زندگی کے آخری دنوں تک آشیرواد نہیں بیچا۔

ان کے انتقال کے بعد، اس تاریخی بنگلے آشیرواد کو گرا دیا گیا اور اس کی جگہ ایک بلند عمارت کھڑی کر دی گئی۔ یہ قصہ آج بھی بالی ووڈ کی ان کہانیوں میں شامل ہے جہاں انا، غلط فہمیاں اور بدلتا وقت سب کچھ بدل کر رکھ دیتے ہیں۔

یہ کہانی نہ صرف بالی ووڈ کے سٹارز کے مابین تعلقات کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی غماز ہے کہ کیسے وقت اور حالات انسانوں کے فیصلوں کو بدل دیتے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button