مس یونیورس 2025 میں ووٹنگ تنازع: فلسطین کی ندین ایوب کا مؤقف سامنے آ گیا
میامی — مس یونیورس 2025 مقابلہ اس سال شدید تنازعات کا شکار رہا ہے۔ امیدواروں کے واک آؤٹ، جج کے استعفے، میزبان کی برطرفی اور ایک امیدوار کے اسٹیج سے گرنے جیسے واقعات کے بعد بھی تنازعات کا سلسلہ جاری ہے، حالانکہ میکسیکو کی حسینہ نے تاج جیت لیا۔
اسی سلسلے میں مس یونیورس فلسطین ندین ایوب نے ‘Most Beautiful People’ کیٹیگری میں ووٹوں کی گنتی پر غیر منصفانہ رویے کا الزام لگایا ہے۔
ندین ایوب کا مؤقف
ندین نے بتایا کہ:
وہ مقابلے کے اختتام سے تقریباً 30 منٹ پہلے تک واضح برتری پر تھیں۔
لیکن صرف دو منٹ میں ایک دوسری امیدوار کے ووٹ اچانک 20 ہزار تک بڑھ گئے، جو ان کے مطابق حقیقت پسندانہ نہیں اور ممکنہ طور پر اندرونی مداخلت ہے۔
کیٹیگری بند ہونے کے بعد بھی کسی فاتح کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ندین نے مزید کہا:
"یہ ایوارڈ کی بات نہیں، سب سے بڑا اعزاز فلسطین کی نمائندگی کرنا ہے۔ میں اپنے لوگوں کی آواز بن کر سب سے بڑا تاج حاصل کر چکی ہوں، مگر ایک فلسطینی خاتون ہونے کے ناطے انصاف کے لیے کھڑا ہونا میرا فرض ہے۔”
سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا صارفین نے ندین کے مؤقف کی حمایت کی اور بتایا کہ:
مِس یونیورس ایپ ووٹ قبول نہیں کر رہی تھی
ایپ کریش ہو رہی تھی
فری ووٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی
تاریخی پہلو
یہ پہلی بار ہے کہ فلسطین نے مس یونیورس میں حصہ لیا، اور ندین ایوب ٹاپ 30 تک پہنچ کر تاریخ میں اپنا نام درج کروا چکی ہیں۔
مس یونیورس 2025 کے اس تنازع نے شائقین اور ماہرین میں ووٹنگ سسٹم اور شفافیت کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔






