’’میری انڈسٹری نے مجھے تنہا چھوڑ دیا تھا‘‘ بھارت کی میڈونا علیشا چنائے کے ہولناک انکشافات نے بالی ووڈ کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا
بھارتی پاپ سنگر اور بالی ووڈ کی معروف شخصیت علیشا چنائے نے ایک بار پھر اپنے ماضی کے تلخ تجربات سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ 1996 میں موسیقار انو ملک پر جنسی ہراسانی کے الزام لگانے کے بعد ان کی اپنی انڈسٹری نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
ایک تازہ انٹرویو میں علیشا چنائے نے بتایا کہ جب وہ انو ملک کے خلاف کھڑی ہوئیں تو انہیں نہ صرف کام سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ پوری انڈسٹری نے ان کے خلاف ہوکر انہیں تنہا کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کیریئر کو اس واقعے نے بری طرح متاثر کیا اور انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
علیشا نے مزید کہا کہ وہ شروع میں کیس کو آگے بڑھانے میں ہچکچا رہی تھیں، لیکن ان کے شوہر اور منیجر نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انصاف کے لیے کھڑا ہونا ضروری سمجھایا۔ تاہم، جیسے ہی یہ معاملہ میڈیا میں آیا، ان کے خلاف منفی ماحول بنا دیا گیا اور ان کی بات کو نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت انڈسٹری میں طاقتور مردوں کا کنٹرول تھا، جس کی وجہ سے کیس کو فوراً خارج کر دیا گیا۔ لیکن بعد میں #MeToo تحریک کے دوران جب کئی خواتین نے انو ملک کے خلاف آواز اٹھائی، تو علیشا نے بھی کھل کر ان کا ساتھ دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ علیشا چنائے اور انو ملک نے 2003 میں فلم ’عشق وشق‘ میں ایک ساتھ کام کیا اور بعد میں انڈین آئیڈل شو میں ججز کی حیثیت سے بھی مل کر کام کیا۔ علیشا کے مطابق انو ملک نے بعد میں ذاتی طور پر معافی بھی مانگی تھی اور اپنی غلطی تسلیم کی تھی۔
علیشا چنائے کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماضی میں انہیں تنہا کیا گیا، مگر آج کا دور عورتوں کے حقوق کے لیے بہتر ہے اور انہیں سنوائی مل رہی ہے۔
یہ انکشافات بالی ووڈ کی طاقتور شخصیات اور انڈسٹری کے حقیقی چہرے پر سوالیہ نشان ہیں اور صنفی مساوات اور انصاف کے لیے لڑنے والی خواتین کے حوصلے کو بڑھاتے ہیں۔






