کمار سانو نے سابقہ اہلیہ ریتا بھٹاچاریا کو قانونی نوٹس بھیج دیا
ممبئی: بھارت کے مشہور گلوکار کمار سانو نے اپنی سابقہ اہلیہ ریتا بھٹاچاریا کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریتا بھٹاچاریا نے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ کمار سانو نے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا، بچوں کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھا اور حمل کے دوران بھی انہیں عدالت کے چکر لگوانے پر مجبور کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "عاشقی” فلم کی کامیابی کے بعد کمار سانو کا رویہ تبدیل ہو گیا تھا اور وہ گھر کے ماحول میں غیر محفوظ محسوس کرتی تھیں۔
ریتا کا کہنا تھا کہ کمار سانو نہ صرف ان پر سختی کرتے تھے بلکہ انہیں گھر سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سانو کی بہن ان کے ساتھ ایک ہی کمرے میں سوتی تھیں جبکہ وہ خود بچوں کے ساتھ علیحدہ کمرے میں رہتی تھیں۔
کمار سانو نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اپنی وکیل ثنا رئیس خان کے ذریعے ریتا بھٹاچاریا کو قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ریتا نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے گلوکار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، اور اگر آئندہ ایسی کسی کوشش کی گئی تو ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وکیل نے کمار سانو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک لیجنڈری گلوکار ہیں، جنہوں نے بھارتی موسیقی کو کئی دہائیوں تک یادگار نغمات دیے، اور ان کی شہرت کو اس طرح کے الزامات سے داغ دار نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ کمار سانو اور ریتا بھٹاچاریا کی شادی 1980 میں ہوئی تھی، تاہم 1994 میں دونوں میں طلاق ہو گئی۔ بعد ازاں کمار سانو نے 2001 میں سالونی بھٹاچاریا سے دوسری شادی کی، جن سے ان کی دو بیٹیاں ہیں۔






