’دی تاج محل اسٹوری‘: فلم ریلیز سے قبل ہی تنازع کا شکار، مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام
ممبئی: بالی ووڈ کی آنے والی فلم ’دی تاج محل اسٹوری‘ اپنے ٹریلر کے اجرا کے فوراً بعد ہی شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہے، جس پر مذہبی منافرت پھیلانے اور تاریخی حقائق مسخ کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
متنازع پوسٹر، بھڑکی چنگاری
فلم کے ٹریلر کے ساتھ جاری کیے گئے پوسٹر میں معروف اداکار پاریش راول کو تاج محل کے گنبد سے ہندو دیوتا شیو کا مجسمہ نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ منظر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے افراد نے بھی اسے ایک اور "بابری مسجد سازش” قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔
ہندو مندر ہونے کے دعوے کو تقویت؟
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ فلم اُس متنازع دعوے کو فروغ دیتی ہے کہ تاج محل کی جگہ پہلے ہندو مندر (تیجو مہالیہ) تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے الزام لگایا کہ فلم ہندو مسلم تقسیم کو مزید گہرا کرنے کی کوشش ہے، اور یہ رجحان حالیہ برسوں میں بالی ووڈ کے کچھ حلقوں میں ابھرتے بیانیے کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔
فلم سازوں کی وضاحت
شدید مخالفت اور بحث کے بعد فلم کی ٹیم نے وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے:
"فلم کا مقصد کسی بھی مذہب یا عقیدے کی توہین کرنا نہیں، اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تاج محل دراصل شیو مندر ہے۔ یہ فلم تاریخی حقائق اور مختلف بیانیوں پر مبنی ہے، نہ کہ کسی مذہبی اشتعال انگیزی پر۔”
پاریش راول کا ردعمل
فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے سینئر اداکار پاریش راول نے کہا:
"لوگوں کو دوسروں کی باتوں پر اندھا یقین نہیں کرنا چاہیے۔ بہتر ہے کہ فلم دیکھیں اور پھر اپنی رائے قائم کریں۔”
ریلیز کی تاریخ
فلم ’دی تاج محل اسٹوری‘ کی ریلیز 31 اکتوبر 2025 کو متوقع ہے، تاہم موجودہ تنازع کے باعث اس پر پابندی یا عدالتی کارروائی کے امکانات کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔
پسِ منظر:
بھارت میں حالیہ برسوں میں ایسی فلمیں جو اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کے بارے میں متنازع بیانیے پیش کرتی ہیں، بڑھتی جا رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان سیاسی مقاصد کے تحت معاشرے میں نفرت اور تقسیم پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔






