ہالی ووڈ کے 1000 سے زائد فنکاروں کا اسرائیلی فلمی اداروں کا بائیکاٹ
لاس اینجلس / نیویارک: ہالی ووڈ کے ایک ہزار سے زائد نامور فنکاروں، فلم سازوں اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد نے اسرائیلی فلمی اداروں اور منصوبوں کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایک اجتماعی حلف نامے کے ذریعے کیا گیا ہے جس میں اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف مبینہ تشدد، جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اہم شخصیات شامل
اس حلف نامے پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں:
آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ اولیویا کولمین
معروف ہدایتکارہ آوا ڈو ورنے
اداکارہ ٹلڈا سوئنٹن
مارول فلموں کے معروف اداکار مارک روفیلّو
اور ہالی ووڈ کے ممتاز ہدایتکار ایڈم مکائے
یہ فنکار عالمی سطح پر انسانی حقوق کی حمایت اور فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آواز بلند کرنے والے حلقے میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔
بائیکاٹ کی نوعیت اور مقصد
حلف نامے میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ:
"ہم ایسے کسی اسرائیلی فلمی ادارے، منصوبے یا فنکارانہ تعاون میں شریک نہیں ہوں گے جو فلسطینی عوام پر ظلم یا نسلی امتیاز کی کارروائیوں کا حصہ ہو یا ان کی حمایت کرتا ہو۔”
سیاسی اور ثقافتی اثرات
یہ بائیکاٹ نہ صرف ہالی ووڈ کے اندر ایک بڑی اخلاقی پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے ثقافتی دباؤ کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔
اس اقدام کو BDS تحریک (Boycott, Divestment, Sanctions) سے جڑا ہوا تصور کیا جا رہا ہے، جو اسرائیل پر اقتصادی، ثقافتی اور تعلیمی دباؤ ڈالنے کے لیے سرگرم ہے۔
ردِ عمل متوقع
اسرائیلی حکومت یا فلمی اداروں کی جانب سے فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایسے اقدامات کو یہود مخالف تعصب قرار دے کر مسترد کیا جاتا رہا ہے۔






