انٹرٹینمنٹ

محسن گیلانی کا انکشاف: شوبز انڈسٹری کے ماضی کے دردناک لمحے یاد

کراچی — پاکستانی شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار محسن گیلانی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران ایک دل دہلا دینے والا واقعہ شیئر کیا، جو آج سے کئی برس قبل پیش آیا تھا لیکن شاید بہت کم لوگ اسے جانتے ہوں۔ حالیہ دنوں میں عائشہ خان اور حمیرا اصغر کی اچانک اموات نے جہاں انڈسٹری کو سوگوار کر دیا، وہیں محسن گیلانی کو ماضی کا ایک افسوسناک لمحہ یاد دلا گیا — جب معروف ڈائریکٹر جاوید فاضل کی موت کی خبر سب کے لیے ایک صدمہ بن گئی تھی۔

جاوید فاضل: ایک خاموش فنکار، ایک تنہا موت
محسن گیلانی کے مطابق، جاوید فاضل ایک باوقار، محنتی اور فن سے بے حد مخلص ہدایت کار تھے جنہوں نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو کئی یادگار تخلیقات دیں۔
2010 میں وہ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک فلیٹ میں تنہا زندگی گزار رہے تھے۔ ایک دن، جب وہ سیٹ پر نہ پہنچے اور ان کی فون کالز کا بھی کوئی جواب نہ آیا تو خدشہ پیدا ہوا۔
دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا — اور وہاں ان کی لاش ملی۔

"ہمیں اپنے سینئرز کو نہیں بھولنا چاہیے” — محسن گیلانی
اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے محسن گیلانی کی آواز میں افسوس اور درد صاف جھلکتا تھا۔ انہوں نے کہا:

“ہمیں اپنے سینئر فنکاروں کو یاد رکھنا چاہیے، کیونکہ وہ ہماری تاریخ اور فن کا سرمایہ ہیں۔ افسوس کہ جب وہ زندہ ہوتے ہیں تو اکثر ان کی قدر نہیں کی جاتی۔”

فنکار بھی انسان ہیں
عائشہ خان، حمیرا اصغر اور جاوید فاضل جیسے نام شوبز کی چمک دمک کے پیچھے چھپی تنہائی، محرومی اور خاموش جدوجہد کی علامت بن کر سامنے آئے ہیں۔
یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ فنکار بھی عام انسانوں کی طرح دکھ، تنہائی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں — اور بعض اوقات یہ درد خاموشی سے ان کی زندگیوں کو نگل لیتا ہے۔

اختتامیہ:

انڈسٹری کے موجودہ اور نئے چہروں کے لیے یہ لمحے سبق آموز ہیں — کہ ہمیں نہ صرف ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوشی منانی چاہیے بلکہ دکھ، تنہائی اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا بھی سیکھنا چاہیے۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ جاوید فاضل، عائشہ خان، حمیرا اصغر اور تمام مرحوم فنکاروں کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button