انٹرٹینمنٹ

حمزہ علی عباسی کا حجاب پر متنازع بیان، سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا

کراچی: پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار حمزہ علی عباسی ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں اسلام میں حجاب کے موضوع پر دیے گئے بیان کے باعث تنازعے کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کر رہا ہے۔

حمزہ علی عباسی، جو ڈراموں جیسے "پیارے افضل”، "من مائل” اور "الف” سے شہرت رکھتے ہیں، نمل خاور سے شادی کے بعد مذہبی رجحان کا اظہار کر چکے ہیں اور انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ مین اسٹریم میڈیا سے دور ہو کر اسلامی تعلیمات کے فروغ پر توجہ دیں گے۔ تاہم، ان کے مذہبی بیانات اکثر متنازعہ رہے ہیں۔

متنازعہ بیان اور اس پر ردعمل
حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں حمزہ علی عباسی نے کہا کہ "سر ڈھانپنا لازمی نہیں ہے۔ سورۃ احزاب میں صرف نبیؐ کی بیویوں اور اہلِ بیت کو ہی سر ڈھانپنے کی ہدایت دی گئی ہے، باقی مسلمان عورتوں پر یہ لازم نہیں۔”

یہ بیان سوشل میڈیا صارفین کے لیے بحث کا مرکز بن گیا اور کئی افراد نے اسے "غلط تشریح” اور "اسلامی تعلیمات کی نفی” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ ایک صارف نے کہا، "یہ شخص دین کے معاملے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کر رہا ہے۔”

دوسری جانب، کئی صارفین نے سورۃ الاحزاب کی آیت 33:59 کا حوالہ دیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے مؤمن عورتوں کو چادریں لپیٹنے کا حکم دیا ہے تاکہ انہیں پہچانا جائے اور تکلیف سے بچایا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر بحث جاری
مداحوں اور مذہبی حلقوں نے حمزہ علی عباسی سے کہا ہے کہ وہ اپنی تشریحات پر دوبارہ غور کریں اور دینی امور میں احتیاط برتیں۔ ایک صارف نے لکھا، "اداکار اپنے شعبے میں بہترین ہیں، مگر دین کے معاملات میں ان کی رائے قابلِ اعتبار نہیں۔”

ابھی تک حمزہ علی عباسی کی جانب سے اس تنازعے پر کوئی سرکاری وضاحت نہیں آئی، تاہم سوشل میڈیا پر ان کے بیان پر بحث جاری ہے اور صارفین قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کے مؤقف کو چیلنج کر رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button