اداکارہ ماہا حسن کا ہراسانی پر جرات مندانہ انکشاف — "ہمیں بچوں کو آواز اٹھانا سکھانا ہوگا”
کراچی: معروف اداکارہ ماہا حسن نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنے بچپن کے ایک تکلیف دہ تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کم عمری میں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنی تھیں۔ ماہا کا کہنا تھا کہ اُس وقت وہ اتنی چھوٹی تھیں کہ یہ سمجھ ہی نہیں پائیں کہ ان کے ساتھ کیا زیادتی ہوئی ہے۔
اداکارہ نے بتایا:
"جب میں چھوٹی تھی، کسی شخص نے مجھ سے غلط انداز میں بات کی اور مجھے نامناسب طریقے سے چھوا۔ اُس وقت میں اتنی کم عمر تھی کہ سمجھ ہی نہیں سکی کہ یہ سب کچھ غلط ہے، ورنہ ضرور اس کے خلاف کارروائی کرتی۔”
ماہا حسن نے معاشرتی رویوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا ایک خطرناک سوچ ہے۔
"ہمیں لگتا ہے کہ سمجھا کر ایسے لوگوں کو سدھارا جا سکتا ہے، لیکن یہ محض ایک فریب ہے۔ جو ایسا کرتے ہیں، وہ موقع ملتے ہی دوبارہ وہی عمل دہراتے ہیں۔”
سوشل میڈیا پر پذیرائی اور یکجہتی
ماہا حسن کے اس جرات مندانہ انکشاف کو سوشل میڈیا پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ شوبز انڈسٹری کی شخصیات، مداحوں اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے اُن کے حوصلے کو سراہتے ہوئے اُن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات معاشرے کے لیے آنکھیں کھولنے والے ہوتے ہیں۔ ماہا کی آواز اُن ہزاروں بچوں کی نمائندہ ہے جو خاموشی سے تکلیف سہتے ہیں، اور اُنہیں نہ کوئی سمجھاتا ہے نہ تحفظ دیتا ہے۔
ایک پیغام، ایک تحریک
ماہا حسن کا یہ بیان صرف ایک ذاتی تجربہ نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک ویک اپ کال ہے۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ:
بچوں کو کم عمری سے ہی درست آگاہی دینا ضروری ہے۔
والدین، اساتذہ اور معاشرے کو بچوں کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے حساس ہونا چاہیے۔
اور سب سے اہم بات، ایسے مجرموں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی ہونی چاہیے۔
ماہا حسن نے نہ صرف اپنے زخم شیئر کیے بلکہ ایک بڑے سماجی مسئلے کی طرف توجہ بھی مبذول کروائی ہے۔ اُن کی یہ جرات مندی قابلِ ستائش ہے، اور یقیناً بہت سی آوازوں کو حوصلہ دے گی۔






