انٹرٹینمنٹ

نادیہ خان کا باوقار پیغام: "ذاتی حملے بند کریں، قانون حرکت میں آئے گا”

کراچی: پاکستان کی معروف اداکارہ اور مارننگ شو کی میزبان نادیہ خان نے شوبز میں ذاتیات پر مبنی تبصروں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر واضح اور باوقار مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ اگر کسی نے ان پر ذاتی حملہ کیا تو وہ قانونی چارہ جوئی سے گریز نہیں کریں گی۔

اظہارِ رائے کی آزادی، لیکن اخلاقی حدود کے ساتھ
یوٹیوب پر جاری کردہ اپنے حالیہ ویڈیو پیغام میں نادیہ خان نے کہا:

"تنقید کریں، ضرور کریں، لیکن اگر بات ذاتیات تک آئی تو قانون خاموش نہیں رہے گا۔”

انہوں نے کریمنل اور سول ڈیفیمیشن کے ساتھ ساتھ پیکا (سائبر کرائم) قوانین کے تحت کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے، اور بتایا کہ یہ اُن کی آخری وارننگ ہے۔

پیشہ ورانہ وقار اور قانون کی بالادستی کا پیغام
نادیہ خان کا کہنا ہے کہ وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے میڈیا کا حصہ ہیں، اور ان کا کام ہمیشہ خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے، مثبت مواد دکھانے اور شائقین سے جڑنے پر مبنی رہا ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں کچھ فنکاروں کی جانب سے اُن پر اور ان کے شو پر ذاتی نوعیت کے تبصرے سامنے آئے، جن کے بعد انہوں نے مؤثر جواب دینے کا فیصلہ کیا۔

شخصی احترام کی نئی مثال
نادیہ خان کا مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے میڈیا اور شوبز میں اب پیشہ ورانہ احترام اور ذاتی حدود کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق:

"جب شہرت اور ریٹنگ کے لیے اخلاقیات بیچ دی جائے، تو پھر قانون ہی بولتا ہے۔”

سوشل میڈیا پر آرا تقسیم، لیکن گفتگو کا رخ مثبت
نادیہ خان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی رائے تقسیم ہے، لیکن بیشتر افراد نے ان کے مؤقف کو حقیقت پسندانہ اور قانونی آگاہی کا حامل قرار دیا ہے۔ یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب پاکستانی شوبز شخصیات قانونی دائرے میں رہ کر باعزت مؤقف اختیار کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔

نادیہ خان کا یہ قدم نہ صرف انفرادی عزتِ نفس کے تحفظ کی علامت ہے، بلکہ شوبز میں اخلاقیات اور قانون کی بالا دستی کی جانب ایک مثبت قدم بھی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button