🎶 بھارت کا معروف اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے پاکستانی گانے ہٹانے کا اقدام، فن کو سرحدوں میں قید کرنے کی نئی کوشش
نئی دہلی/اسلام آباد — بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر ثقافتی میدان میں نظر آنے لگی، جہاں بھارت نے ایک معروف میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے پاکستانی گلوکاروں کے تمام گانے ہٹا دیے۔ یہ فیصلہ بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ پاکستانی مواد کو بھارت کے اندر سے مکمل طور پر ہٹا دیا جائے۔
🔇 سرحدی سیاست کا شکار موسیقی
اس اقدام کے تحت نہ صرف میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے پاکستانی گانے ہٹائے گئے، بلکہ یوٹیوب پر موجود بھارتی میوزک کمپنی "زی میوزک” نے بھی اپنے چینل سے عاطف اسلم جیسے عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار کا نام اور مواد حذف کر دیا ہے۔
📢 تخلیقی اظہار پر پابندیاں، تنقید کی زد میں
عالمی سطح پر فن، موسیقی اور ثقافت کو سرحدوں سے بالاتر سمجھا جاتا ہے، لیکن بھارت کے اس تازہ ترین فیصلے پر سوشل میڈیا اور فنکار حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ "فن کو سیاست کی نذر کرنا نہ صرف تخلیقی آزادی کے خلاف ہے بلکہ جنوبی ایشیائی ثقافت کی روح کے بھی منافی ہے۔”
🌍 پاکستانی فنکاروں کی مقبولیت سرحدوں سے آزاد
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں نشانہ بنایا گیا ہو، مگر اس کے باوجود عاطف اسلم، راحت فتح علی خان، علی ظفر اور دیگر فنکاروں کے گانے دنیا بھر میں سنے اور پسند کیے جا رہے ہیں۔ ان کی عالمی سطح پر مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی موسیقی کا مقام کسی ایک ملک کی پابندیوں کا محتاج نہیں۔
🤝 فن اور ثقافت کو جوڑنے کا ذریعہ بننے دیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں امن اور تعلقات کی بہتری کے لیے ثقافتی تبادلے ایک مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایسے میں فن پر پابندیاں نہ صرف تخلیقی دنیا کو محدود کرتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کو تقسیم کا پیغام دیتی ہیں۔






