انٹرٹینمنٹ

صنم ماروی کا سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کو جواب: "عبادت میرا حق ہے، گلوکاری میرا کام”

اسلام آباد (13 اگست 2025): پاکستان کی معروف لوک گلوکارہ صنم ماروی نے حالیہ نجی ٹی وی مارننگ شو میں شرکت کے دوران سوشل میڈیا پر کی جانے والی تنقید پر دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "عبادت ہر مسلمان کا ذاتی حق ہے، اور گلوکاری میرا پیشہ ہے۔”

صنم ماروی نے کہا کہ وہ بھی ایک عام مسلمان کی طرح عبادات کی خواہش اور رجحان رکھتی ہیں، مگر کچھ حلقے ان کی عبادت اور عقیدت کو ان کے پیشے کے ساتھ جوڑ کر منفی انداز میں پیش کرتے ہیں۔

"عبادت کا شوق رکھنے پر بھی طعنے دیے جاتے ہیں”
شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا:

"جب میں عمرہ، حج یا کربلا کی زیارت کے لیے جاتی ہوں تو سوشل میڈیا پر طعنے دیے جاتے ہیں کہ ’اب آپ بھی؟‘۔ اور جب واپس آکر دوبارہ گانے شروع کرتی ہوں تو کہا جاتا ہے کہ ابھی تو عبادت کر کے آئی تھیں، اب یہ سب؟”

"فن میری روزی روٹی ہے”
صنم ماروی نے کہا کہ وہ گلوکاری کو ایک فن اور روزگار کا ذریعہ سمجھتی ہیں:

"یہ میرا پیشہ ہے، میں اسے چھوڑ نہیں سکتی۔ عبادت میرا اور میرے رب کے درمیان معاملہ ہے۔ لوگوں کو کسی کی نیت پر شک کرنے کا حق نہیں۔”

سوشل میڈیا پر دوہرا معیار
صنم ماروی کی گفتگو نے ایک اہم سماجی مسئلے کو اجاگر کیا ہے جس کا سامنا بہت سے فنکاروں کو کرنا پڑتا ہے — جہاں ان کے مذہبی رجحانات کو ان کے پیشے کے تناظر میں غیر ضروری تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ:

"فنکار بھی انسان ہوتے ہیں، اور ان کے دل میں بھی ایمان، احساس اور روحانیت ہوتی ہے۔ صرف اس لیے کہ وہ سٹیج پر پرفارم کرتے ہیں، ان کی عبادت کو مشکوک قرار دینا مناسب نہیں۔”

معروف شخصیات کی حمایت
شو میں شریک سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی صنم ماروی کی بات کی تائید کی اور کہا کہ معاشرے کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے ذاتی اور مذہبی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button