انٹرٹینمنٹ

کانز فلم فیسٹیول میں غزہ کے بچوں کی صدائیں گونج اٹھیں – جولین اسانج کا انسانیت کو خاموش پیغام

کانز (بین الاقوامی ڈیسک) — جہاں کانز فلم فیسٹیول اپنی روایتی چمک دمک، سرخ قالین، فیشن اور شہرت کی کہکشاؤں سے جگمگا رہا تھا، وہیں جولین اسانج نے ایک خاموش مگر دل کو چھو لینے والا قدم اٹھا کر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے فیسٹیول میں شرکت کے دوران ایسی ٹی شرٹ پہن کر شرکت کی جس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی۔ اس ٹی شرٹ پر غزہ میں شہید ہونے والے 5,000 بچوں کے نام درج تھے، جو اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے۔

یہ نام اتنے چھوٹے فونٹس میں لکھے گئے تھے کہ قریب جا کر پڑھنا ممکن تھا، اور یہی تفصیل ہر دیکھنے والے کو رک کر سوچنے پر مجبور کرتی تھی — کہ وہ بچے کون تھے، اور ان کی صرف ایک "خبر” بن کر رہ جانے والی زندگیوں کے پیچھے کتنا درد چھپا ہے۔

جولین اسانج نے اس یادگار ٹی شرٹ کے ساتھ نہ صرف فوٹو سیشن میں شرکت کی بلکہ بغیر کچھ کہے دنیا کو ایک زبردست پیغام دے دیا:
"انسانیت، فیشن سے بالاتر ہے۔”

اس علامتی احتجاج نے سوشل میڈیا پر طوفان بپا کر دیا۔ ٹی شرٹ کے پیچھے چھپے پیغام کو لاکھوں صارفین نے شیئر کیا اور گوگل پر یہ ٹی شرٹ سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیاء میں شامل ہو چکی ہے۔

کانز میں یہ لمحہ ایک یادگار مثال بن گیا کہ فن اور احتجاج، جمالیات اور انسانیت مل کر دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button