ثنا عسکری کا دو ٹوک مؤقف: فنکاروں کی عزت اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے، نہ کہ پابندیاں
کراچی، 15 مئی – معروف پاکستانی اداکارہ ثنا عسکری نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی فنکاروں پر بھارتی پابندیوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے باہمی احترام اور فنکارانہ تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ثنا عسکری نے کہا کہ پاکستانی فنکار بھارت میں بے پناہ عزت اور محبت حاصل کرتے ہیں، خاص طور پر پاکستانی ڈراموں کو بھارتی ناظرین کی جانب سے بے حد سراہا جاتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم خود اپنے فنکاروں کی قدر کرنے میں پیچھے ہیں۔
اداکارہ نے زور دیا کہ اگر کسی ملک میں پاکستانی فنکاروں کو باعزت طریقے سے بلایا جائے تو تب ہی تعاون ہونا چاہیے۔ "میرا خیال ہے عزت سے کام کریں، اور یہ تعاون دونوں طرف سے ہونا چاہیے۔ اگر بھارتی فنکار پاکستان آ سکتے ہیں تو ہمارے فنکار بھی وہاں جا سکیں۔”
انہوں نے فواد خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ "اگر اب بھی بھارت میں ان پر پابندی کی باتیں ہو رہی ہیں، تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ وہاں جا کر کام کرنے کی خواہش کیوں رکھتے ہیں؟”
ثنا عسکری نے اس رویے پر بھی تنقید کی کہ بعض فنکار صرف بلائے جانے پر فوراً بھارت جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر وہ ایک چھینک مارنے کے لیے بھی بلائیں تو ہمارے لوگ دوڑتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔”
اداکارہ کے ان خیالات کو سوشل میڈیا پر بھی خوب پذیرائی مل رہی ہے، جہاں صارفین ان کی صاف گوئی اور حقیقت پسندی کو سراہ رہے ہیں۔ وہ فنکاروں کے لیے ایک ایسے پلیٹ فارم کا مطالبہ کر رہی ہیں جہاں فن، محبت، اور باہمی عزت کے اصولوں پر مبنی تعلقات فروغ پائیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات عائد کیے، جس کے بعد نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ کئی پاکستانی فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے، اور انہیں میوزک و فلم پروجیکٹس سے بھی ہٹا دیا گیا۔
اس ماحول میں ثنا عسکری کی متوازن اور حقیقت پسندانہ سوچ نہ صرف پاکستانی فنکار برادری بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے لیے بھی ایک تعمیری پیغام ہے۔






