ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ کیلیے کون سی سبزیاں مفید ہیں؟
ہائی بلڈ پریشر، جسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے، لوگوں کو کسی بھی وقت فالج کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اس مرض میں مبتلا افراد کی خوراک بھی مخصوص ہوتی ہے، خاص طور پر نمک سے پرہیز کرنا۔ تاہم ایسی غذاؤں کی کمی نہیں جو منہ کا ذائقہ بھی برقرار رکھتی ہیں اور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر متوازن سطح پر رکھتی ہیں۔
گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 52 فیصد سے زائد لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں اور ان میں سے 42 فیصد اس خطرناک صورتحال سے لاعلم ہیں جس سے وہ گزر رہے ہیں۔
ویسے تو ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے ادویات کا استعمال ضروری ہے لیکن اچھی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا استعمال بھی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جن میں سبزیاں بہت اہم ہیں۔
سبزیاں دل کی صحت مند غذا کے لیے ایک اہم بنیاد ہیں، غذائی اجزاء میں زیادہ اور سوڈیم کی کم مقدار۔ پوٹاشیم، میگنیشیم اور نائٹریٹ جیسے غذائی اجزاء سے بھرپور سبزیاں قدرتی طور پر بلڈ پریشر کو کم کرنے میں فائدہ مند ہیں۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ سبزیاں خون کی شریانوں کو آرام دینے، الیکٹرولائٹس کو متوازن کرنے اور سوزش کو کم کرکے بلڈ پریشر کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ان سبزیوں میں پالک، چقندر، بروکلی، گاجر، شکر قندی، آلو، ٹماٹر اور سبز پھلیاں شامل ہیں۔ اور اگر سبز اس کے علاوہ دیگر غذاؤں کی بات کی جائے تو بلاوجہ کی باتوں سے نمک کی بات کی جائے
تعلیمی اداروں میں مضرصحت اشیا کی فروخت پر پابندی، سندھ فوڈ اتھارٹی کا مراسلہ
کراچی: سندھ فوڈ اتھارٹی نے تعلیمی اداروں میں غیر صحت بخش اشیاء کی فروخت پر پابندی کے حوالے سے خط لکھ دیا۔
سندھ فوڈ اتھارٹی نے تعلیمی اداروں میں بچوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے سیکریٹری اسکول ایجوکیشن، کالج ایجوکیشن اور محکمہ لوکل گورنمنٹ کو خطوط ارسال کیے ہیں۔ سافٹ ڈرنکس اور دیگر چیزوں پر پابندی لگانے کو کہا گیا ہے۔
فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں پاپڑ، رنگین چپس اور دیگر غیر صحت بخش اشیاء پر پابندی عائد کی جائے، اسکولوں اور کالجوں میں سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس پر پابندی لگانے کی بھی درخواست کی گئی۔ سندھ فوڈ اتھارٹی نے 2018 کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اتھارٹی نے تعلیمی اداروں کو طلباء کی صحت سے متعلق خدشات سے آگاہ کیا۔
فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ تمام اداروں میں جو کینٹینز اور فوڈ کورٹس قائم ہیں ان کی مؤثر نگرانی کا مشورہ دیتے ہیں۔






