صحت

ماں کا دودھ: قدرت کا تحفہ، قوم کا مستقبل — بریسٹ فیڈنگ ہفتے کے موقع پر آگاہی کی اپیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — دنیا بھر میں ماہ اگست کا پہلا ہفتہ "بریسٹ فیڈنگ آگاہی ہفتہ” کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ ماؤں کو اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی اموات اور غذائی قلت کی شرح خطرناک حد تک بلند ہے، جس کی ایک بڑی وجہ پیدائش کے بعد ماں کا دودھ نہ پلایا جانا ہے۔

■ قرآنی ہدایت اور نبوی رہنمائی
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ آیت 233 میں ماؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں۔ پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی ماں کا دودھ پلانے والی خواتین کے لیے بے شمار اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔

"بچّے کی پیدائش کے بعد ماں کے دودھ کا ہر قطرہ، ہر گھونٹ، ماں کے لیے نیکی لکھا جاتا ہے۔”
(کنزالعمال، مجمع الزوائد)

طبی و سائنسی تحقیق کی روشنی میں
ماہرین صحت کے مطابق پیدائش کے ابتدائی چھ ماہ میں صرف ماں کا دودھ (Exclusive Breastfeeding) بچے کی جسمانی، ذہنی اور مدافعتی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ماں کے دودھ میں موجود کولوسٹرم (colostrum) اینٹی باڈیز سے بھرپور ہوتا ہے جو بچے کو جراثیموں اور بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

دودھ میں موجود چکنائی، لحمیات، وٹامنز اور دیگر اجزاء بچے کو موٹاپے، ذیابطیس اور دیگر بیماریوں سے بچاتے ہیں۔

ماں کا دودھ پینے والے بچے عموماً زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔

ماں کے لیے فوائد
دودھ پلانے سے ماں کے جسم میں آکسیٹوسن ہارمون پیدا ہوتا ہے، جو رحم کو سکیڑنے، خون روکنے اور جسم کو اصل حالت میں لانے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے:

خون بہنے کے خطرات (Postpartum hemorrhage) کم ہو جاتے ہیں۔

چھاتی اور رحم کے کینسر کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔

مانع حمل (Natural Birth Spacing) کا قدرتی نظام فعال ہوتا ہے۔

صحیح طریقہ کار اور رہنمائی
نئی ماؤں کو اکثر معلومات کی کمی، یا سسرال و خاندان کے دباؤ کے باعث ڈبے کا دودھ شروع کروایا جاتا ہے، جس کے نتائج نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق:

پیدائش کے فوراً بعد بچے کو ماں سے لگایا جائے۔

دودھ پلانے کے دوران بچے کے منہ میں صرف نپل نہیں بلکہ مکمل ایریولا جانا ضروری ہے تاکہ مؤثر طریقے سے دودھ حاصل ہو۔

اگر بچہ کمزور ہے، تو ہر 2 گھنٹے بعد دودھ پلایا جائے، چاہے چمچ یا بریسٹ پمپ کے ذریعے۔

ماں کی خوراک کا کردار
ماں کو اضافی 500 حرارے (کیلوریز) روزانہ درکار ہوتے ہیں تاکہ دودھ کی مقدار مناسب رہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ماں:

متوازن غذا لے جس میں دودھ، گوشت، سبزیاں، پھل، دالیں اور خشک میوے شامل ہوں۔

دن میں 6 سے 7 مرتبہ ہلکی مقدار میں کھائے۔

پانی اور مشروبات کا استعمال بڑھائے تاکہ جسمانی توازن برقرار رہے۔

حکومتی و معاشرتی ذمے داریاں
یہ ضروری ہے کہ:

ڈے کیئر سینٹرز اور فیڈنگ رومز سرکاری و نجی دفاتر، اسپتالوں اور بازاروں میں مہیا کیے جائیں۔

ماں کو مناسب چھٹی اور سہولت دی جائے تاکہ وہ اپنے نومولود کو توجہ دے سکے۔

میڈیا، مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں کے ذریعے بریسٹ فیڈنگ کی مہم کو عام کیا جائے۔

خلاصہ
ماں کا دودھ نہ صرف بچے کا پہلا حق ہے بلکہ یہ ایک قوم کی صحت، ذہانت اور مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ قرآن و سنت اور جدید سائنس سبھی یہی پیغام دیتے ہیں کہ بچے کے لیے ماں کا دودھ ایک مکمل غذا، دوا اور دعا ہے۔ آئیں! معاشرے میں ایسی فضا قائم کریں جہاں ہر ماں اپنے بچے کو سکون سے دودھ پلا سکے — کیونکہ صحت مند بچہ، صحت مند ماں، اور صحت مند قوم کی علامت ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button