سائنس ٹیکنالوجی

کیا ہم ایک عظیم الجثہ بلیک ہول کے اندر رہ رہے ہیں؟ ایک سائنسی جائزہ

سائنسدانوں اور ماہرینِ فلکیات کے لیے کائنات کی ابتدا اور اس کی ساخت ہمیشہ سے ایک معمہ رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں کچھ ماہرِ طبیعیات نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا ہے کہ ہماری پوری کائنات دراصل کسی دوسری کائنات میں موجود ایک دیو ہیکل بلیک ہول کا اندرونی حصہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ نظریہ ابھی ثابت شدہ نہیں، مگر کئی سائنسی دلائل اس کی حمایت کرتے ہیں۔

1. بلیک ہول اور کائنات کی ریاضیاتی مماثلت
بلیک ہول کے گرد ایک سرحد ہوتی ہے جسے ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) کہا جاتا ہے۔ ریاضیاتی طور پر، اگر ہم اپنی کائنات کی کل کمیت اور اس کے پھیلاؤ کا موازنہ کریں، تو یہ ایک ایسے بلیک ہول سے حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتی ہے جس کا رداس (Radius) ہماری قابلِ مشاہدہ کائنات کے برابر ہو۔ ماہرین کے مطابق یہ مماثلت محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔

2. بگ بینگ اور سنگولرٹی کا تعلق
بلیک ہول کے مرکز میں مادہ ایک ایسے نقطے پر سمٹ جاتا ہے جہاں کثافت لامتناہی ہو جاتی ہے، اسے سنگولرٹی (Singularity) کہتے ہیں۔ بگ بینگ کا نظریہ بھی یہی بتاتا ہے کہ کائنات کا آغاز ایک انتہائی گھنے اور گرم نقطے سے ہوا۔

تصور: کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب کسی دوسری کائنات میں ایک ستارہ ٹوٹ کر بلیک ہول بنتا ہے، تو اس کے دوسرے سرے پر ایک "بگ بینگ” ہوتا ہے جو ایک نئی کائنات (جیسے ہماری کائنات) کو جنم دیتا ہے۔

3. قابلِ مشاہدہ کائنات اور ایونٹ ہورائزن
ہماری کائنات میں ایک حد ایسی ہے جس سے آگے کی روشنی ہم تک کبھی نہیں پہنچ سکتی، اسے "کاسمولوجیکل ہورائزن” کہتے ہیں۔

یہ بالکل بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن کی طرح کام کرتا ہے، جہاں معلومات کا تبادلہ ایک طرفہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح بلیک ہول کے اندر موجود شخص باہر کی دنیا کو نہیں دیکھ سکتا، اسی طرح ہم بھی اپنی کائنات کی سرحدوں سے باہر دیکھنے سے قاصر ہیں۔

4. کوانٹم گریویٹی کا خُلا
موجودہ دور میں سائنس کا سب سے بڑا چیلنج آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت (جو بڑی اجسام پر لاگو ہوتا ہے) اور کوانٹم میکانکس (جو ایٹمی ذرات پر لاگو ہوتا ہے) کو یکجا کرنا ہے۔

چونکہ بلیک ہول کے اندر یہ دونوں نظریات ٹکراتے ہیں، اس لیے وہاں طبیعیات کے قوانین مبہم ہو جاتے ہیں۔ اسی علمی خلا کی وجہ سے یہ نظریہ جنم لیتا ہے کہ کائنات کی حقیقت ہماری سوچ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور "بلیک ہول کے اندر بلیک ہول” جیسی ہو سکتی ہے۔

نتیجہ: اگرچہ یہ تصور ایک سائنس فکشن فلم کی کہانی لگتا ہے، لیکن یہ ہمیں کائنات کے بارے میں نئے ڈھنگ سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر یہ سچ ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری کائنات شاید ایک وسیع و عریض "ملٹی ورس” (Multiverse) کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button