انٹرٹینمنٹ

آسکر ایوارڈز کی ڈیجیٹل دنیا میں انٹری، 2029 سے براہِ راست نشریات یوٹیوب پر ہوں گی

فلمی دنیا کے سب سے بڑے اعزازات، آسکر ایوارڈز، روایتی ٹی وی اسکرین کو خیرباد کہہ کر ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھنے جا رہے ہیں۔ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے اعلان کیا ہے کہ 2029 سے آسکر ایوارڈز کی براہِ راست نشریات یوٹیوب پر کی جائیں گی، جہاں یہ دنیا بھر کے ناظرین کے لیے مفت دستیاب ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق اکیڈمی اور یوٹیوب کے درمیان ایک طویل المدتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت 101ویں آسکرز سے لے کر 2033 تک یوٹیوب کو عالمی سطح پر خصوصی نشریاتی حقوق حاصل ہوں گے۔ تاہم 2028 تک آسکر ایوارڈز حسبِ روایت امریکی ٹی وی چینل اے بی سی پر ہی نشر ہوتے رہیں گے۔

اس معاہدے کے تحت نہ صرف مرکزی ایوارڈ تقریب بلکہ ریڈ کارپٹ، بیک اسٹیج مناظر اور گورنرز بال جیسے خصوصی لمحات بھی یوٹیوب پر براہِ راست دکھائے جائیں گے۔ یوٹیوب ٹی وی کے امریکی سبسکرائبرز بھی یہ تقریب دیکھ سکیں گے، جبکہ نشریات کے دوران اشتہارات شامل کیے جائیں گے۔

اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو بل کریمر اور صدر جینیٹ یانگ (یا لینٹ ہاول ٹیلر) نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یوٹیوب کے ساتھ شراکت داری کا مقصد آسکرز کو عالمی ناظرین کے لیے مزید قابلِ رسائی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نشریات میں مختلف زبانوں کے آڈیو ٹریکس اور کلوزڈ کیپشننگ جیسی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی، تاکہ دنیا بھر کے شائقین مستفید ہو سکیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف سنیما کو فروغ دے گا بلکہ نئی نسل کو فلم سازی کی جانب راغب کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

یوٹیوب کے سی ای او نیل موہن نے اس شراکت داری کو ثقافتی لحاظ سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسکرز کو یوٹیوب پر لانا تخلیقی صلاحیتوں اور فلم سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک نیا دروازہ کھولے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوٹیوب نے آسکرز کے نشریاتی حقوق کے لیے نو ہندسوں پر مشتمل خطیر رقم ادا کی ہے، جو ڈزنی/اے بی سی اور این بی سی یونیورسل کی پیشکش سے کہیں زیادہ تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈزنی اب تک آسکرز کے لیے سالانہ تقریباً 100 ملین ڈالر ادا کر رہا تھا، تاہم مسلسل گرتی ہوئی ریٹنگز کے باعث وہ نئی ڈیل میں کم رقم پر آمادہ تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ یوٹیوب کے پاس فی الحال بڑے لائیو ایوارڈ شوز کے لیے روایتی نشریاتی اداروں جیسا مکمل انفرااسٹرکچر موجود نہیں، تاہم اکیڈمی کے پاس 2029 تک تیاری کے لیے تقریباً تین سال کا وقت ہوگا۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ڈیجیٹل منتقلی کے بعد اکیڈمی کو آسکرز کی پروڈکشن پر زیادہ کنٹرول حاصل ہو جائے گا، کیونکہ اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر دورانیے کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسکر ایوارڈز کی ٹی وی ریٹنگز ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہیں۔ 1998 میں فلم ٹائی ٹینک کے دور میں آسکرز کو 57 ملین ناظرین نے دیکھا تھا، جبکہ حالیہ برسوں میں یہ تعداد 20 ملین سے بھی کم رہ گئی ہے۔

اگرچہ کچھ حلقوں میں اس فیصلے پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یوٹیوب پر آسکرز کی روایتی شان برقرار رہ سکے گی یا نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے ڈیجیٹل دور میں یوٹیوب جیسے بڑے اسٹریمنگ پلیٹ فارم کی جانب منتقلی ایک فطری اور اسٹریٹجک قدم ہے، جو آسکر ایوارڈز کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button