انٹرٹینمنٹ

کرن جوہر کا کھلا اعتراف: ’’لڑکے روتے ہیں، نرم مزاج رکھ سکتے ہیں اور گلابی بھی پہن سکتے ہیں‘‘

بالی وڈ کے معروف ہدایتکار اور پروڈیوسر کرن جوہر نے حالیہ انٹرویو میں صنفی معیار اور بچپن کے جذباتی تجربات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوچ کہ لڑکے نہ روئیں، نرم مزاج نہ رکھیں یا گلابی رنگ نہ پہنیں، غلط ہے۔
بچپن کے اثرات اور والدین کے طور پر ان کی فکر
کرن جوہر نے بتایا کہ تقریباً 50 فیصد ان کی شخصیت آج بھی بچپن کی یادوں سے چھلنی ہے۔ وہ اپنے بچوں یاش اور روہی کی پرورش ایسے کر رہے ہیں کہ وہ خود کو کسی صنفی قید میں نہ دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ بچپن کے صدمات اور والد بننے کے بعد پیدا ہونے والی بے چینی نے ان کی شخصیت اور والدین کے طرز عمل پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
چھوٹے بچوں کی روزمرہ باتوں پر حساسیت
کرن جوہر نے بتایا کہ بچوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی وہ فوری پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ یاش اور روہی وہی تکلیف برداشت کریں جو انہوں نے اپنی زندگی میں کی۔
وہ وزن بڑھنے، غیر صحت مند غذا یا بچوں کو چینی کھاتے دیکھ کر بھی فکر مند اور ناراض ہو جاتے ہیں۔
بچپن کا تجربہ اور جسمانی تحفظ
ہدایتکار نے اعتراف کیا کہ وہ بچپن سے موٹاپے کا شکار رہے اور مزاح و طنز کا سامنا کیا۔ اسی وجہ سے آج بھی جسمانی کمی بیشی اور وزن کو لے کر عدم تحفظ محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کئی بار اپنے کپڑوں کے انتخاب میں بھی خود کو محدود محسوس کرتے، لیکن اب آہستہ آہستہ وہ اپنی شخصیت کو قبول کرنا سیکھ رہے ہیں۔
کرن جوہر کی یہ گفتگو والدین، بچوں کی پرورش اور صنفی حساسیت کے حوالے سے اہم پیغام دیتی ہے کہ جنس، مزاج یا رنگ کے معیار پر پابندی بچوں اور بالغوں کی شخصیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اور محبت و قبولیت کے ساتھ پرورش ہی بہتر نتائج دیتی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button