انٹرٹینمنٹ

ماہرہ خان کا سوشل میڈیا پر تنقید کے حوالے سے کھلا اعتراف، نجی زندگی پر احتیاط کی اہمیت

پاکستان کی صفِ اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی نئی فلم کی پروموشن کے دوران سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور عوامی ردعمل پر کھل کر بات کی۔ ماہرہ نے بتایا کہ کس طرح اُن کی معمولی باتوں کو سوشل میڈیا پر توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں اپنی گفتگو میں احتیاط برتنی پڑتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ذاتی باتوں کو غلط رنگ دینا:
ماہرہ نے ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار انہوں نے مذاق میں کہا تھا کہ "میری نانی کہتی تھیں سلیو لیس نہ پہنو”، لیکن اس کے بعد جب بھی وہ سلیو لیس تصاویر شیئر کرتیں، لوگ فوراً کمنٹس کرتے کہ "نانی کو بھول گئیں؟”۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ جملے نہ تو کسی کے خلاف تھے اور نہ ہی کسی بیانیہ کو جنم دینے کے لیے تھے، لیکن سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنا لیا گیا۔
الفاظ کی احتیاط اور محتاط گفتگو:
ماہرہ خان نے اعتراف کیا کہ اب وہ بہت سوچ سمجھ کر بات کرتی ہیں اور ہر لفظ کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کرتی ہیں۔ "آج کل میں سوالوں سے بچتی ہوں، اور اگر بات کروں تو الفاظ بڑی احتیاط سے چنتی ہوں،” انہوں نے کہا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ ایک چھوٹی سی بات بھی سوشل میڈیا پر غلط انداز میں پھیل سکتی ہے اور اس کا نقصان ہو سکتا ہے۔
نجی زندگی کے موضوعات پر محتاط رہنا:
ماہرہ خان نے اپنے خاندان اور ذاتی زندگی سے جڑے موضوعات پر بھی احتیاط برتنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب اپنے نجی معاملات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بہت محتاط ہو گئی ہیں تاکہ کسی کو ان کی باتوں کا غلط مطلب نہ ملے اور کوئی اور ان کے بارے میں بے بنیاد قیاس آرائیاں نہ کرے۔
سوشل میڈیا کی قوت اور اس کا اثر:
ماہرہ خان کی یہ باتیں سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کی قوت کو واضح کرتی ہیں۔ جہاں ایک طرف سوشل میڈیا عوامی رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، وہیں دوسری طرف اس کا منفی استعمال اور چھوٹی باتوں کا غلط مطلب نکالنا بھی عام ہے۔ ماہرہ کا یہ اعتراف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ میڈیا کی دنیا میں عوامی شخصیتوں کو ہر لفظ کا خیال رکھنا پڑتا ہے تاکہ ان کے الفاظ غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور ان کی عزت و شہرت پر کوئی اثر نہ پڑے۔
ماہرہ خان کی یہ سوچ سمجھ کر بات کرنے کی حکمت عملی نہ صرف ان کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ کیسے عوامی شخصیتوں کو سوشل میڈیا کی دنیا میں ہر قدم احتیاط سے اٹھانا پڑتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button