عثمان مختار کا بچپن اور والد سے متعلق کھلا اعتراف، بیٹی کے لیے بہتر والد بننے کی خواہش
پاکستان کے معروف اداکار عثمان مختار نے اپنے والد کے ساتھ بچپن کی تلخ یادوں کو شیئر کرتے ہوئے ایک دلچسپ اور جذباتی اعتراف کیا ہے۔ حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران، عثمان نے اپنے والد کے ساتھ اپنے تعلقات اور زندگی کے ان پہلوؤں پر بات کی جنہوں نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔
والد کے ساتھ تعلقات پر گفتگو:
عثمان مختار نے بتایا کہ ان کے والد کا رویہ بچپن میں ان کے ساتھ بہت سخت تھا اور انہیں اس وقت وہ رویہ درست نہیں لگتا تھا۔ ان کا کہنا تھا، "میرے والد کا رویہ میرے ساتھ بہت زیادہ خراب تھا، ہو سکتا ہے کہ وہ اسے درست سمجھتے ہوں لیکن میرے لیے وہ ٹھیک نہیں تھا۔” اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وہ خود کو ویسا باپ نہیں بنانا چاہتے جیسے ان کے والد تھے، کیونکہ ان کے والد کے رویے نے انہیں بہت متاثر کیا ہے۔
بیٹی کے لیے بہتر والد بننے کی عزم:
عثمان نے مزید کہا کہ وہ اپنے والد کے طریقوں کو اپنانا نہیں چاہتے، بلکہ ان کی بیٹی کے لیے ایک بہتر والد بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ "اگر وہ ویسے نہیں ہوتے تو آج میں جیسا ہوں ویسا نہیں ہوتا،” انہوں نے کہا، "اب میں اپنی بیٹی کے لیے ایسا نہیں سوچتا، میں اس کی اتنی فکر کرتا ہوں۔” عثمان کا کہنا تھا کہ بچپن میں پیش آنے والے واقعات انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، اور وہ اپنی بیٹی کے ساتھ وہ سلوک کرنا چاہتے ہیں جو ان کے والد نے ان کے ساتھ نہیں کیا۔
بیٹی کی پیدائش کے بعد والد بننے کا تجربہ:
عثمان نے اپنی بیٹی کی پیدائش سے قبل ایک دلچسپ قصہ سنایا اور کہا کہ وہ ایک "وہیمی باپ” ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کی بیٹی کی آمد کا وقت قریب آیا، تو وہ ڈاکٹر کے کلینک پہنچ گئے تاکہ یہ جان سکیں کہ بیٹی کی پیدائش کے بعد اسے کس قسم کی ویکسین کی ضرورت ہو گی اور اس کا طبی خیال کیسے رکھا جائے گا۔ یہ بات عثمان کے والد بننے کے بارے میں عزم اور محبت کو ظاہر کرتی ہے۔
عثمان مختار کا یہ بیان نہ صرف ان کے اپنے بچپن کے تجربات کا عکاس ہے بلکہ یہ ان کی بیٹی کے لیے ایک بہتر اور محبت بھرا والد بننے کی کوشش کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ان کی باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے ایک پوزیشن میں نہیں آنا چاہتے جہاں وہ وہی غلطیاں دہرائیں جو ان کے والد نے ان کے ساتھ کیں، بلکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک بہتر والد بننا ہی اولاد کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔





