سوشل میڈیا ناقدین نے ڈاکٹر نبیہا کو رُلا دیا
نبیہا کی سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور اس پر ان کا جذباتی ردعمل ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح عوامی شخصیات کی ذاتی زندگی اور فیصلوں پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ ان کا پوڈکاسٹ میں جذباتی ہونا، خاص طور پر اپنی والدہ کی یادوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اس بات کا غماز ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کبھی کبھار انسان کے اندرونی جذبات اور یادوں کو بھی اجاگر کر دیتی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ کسی اور کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتیں اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزاریں گی۔ اس بیان سے ان کی خود اعتمادی اور ذہنی سکون کا پتا چلتا ہے، جو وہ سوشل میڈیا کی دنیا میں بڑھتی ہوئی منفی تبصروں کے باوجود قائم رکھنا چاہتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مشکلات کا سامنا کرنے والی لڑکیوں کے لیے کچھ بہتر حالات چاہتی ہیں، تاکہ انہیں وہ سب نہ دیکھنا پڑے جو انہوں نے اپنی زندگی میں دیکھا۔ یہ ایک حساس اور دلگداز پیغام ہے جو ڈاکٹر نبیہا کے مخلصانہ احساسات کو ظاہر کرتا ہے۔
شادی کے بعد کی سوشل میڈیا تنقید پر ان کا ردعمل بھی قابل غور ہے۔ خاص طور پر ان کے شادی کے لباس اور جیولری کی قیمت کے حوالے سے ہونے والی تنقید کے بعد انہوں نے اپنے جذبات میں کہی ہوئی باتوں کو واپس لیا اور اس میں غلطی تسلیم کی۔ یہ ایک ذمہ دار اور بالغ ردعمل تھا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کو تیار ہیں۔
دوسری جانب، ڈاکٹر نبیہا کا اپنے شوہر حارث کے ساتھ شادی کے حوالے سے مکمل شفافیت کا رویہ بھی ان کی شخصیت کا اہم پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے شوہر کو ماضی کے حوالے سے سب کچھ بتا چکی ہیں، جو ایک مضبوط اور کھلے ذہن کا حامل شخص ہونے کی علامت ہے۔
یہ کہانی ایک طرف سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ذاتی زندگی پر بے جا تنقید کی جاتی ہے، تو دوسری طرف اس میں ایک مضبوط پیغام بھی ہے کہ اگر انسان اپنے فیصلوں میں ایماندار ہو، اور اپنے جذبات کو درست طریقے سے بیان کرے، تو وہ سوشل میڈیا کی منفی طاقت سے بچ سکتا ہے۔
آپ کو کیا لگتا ہے، سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات کے خلاف تنقید کے اس طرح کے ردعمل، کیا یہ درست ہے یا پھر انہیں مزید برداشت اور سکون کے ساتھ اس کا سامنا کرنا چاہیے؟






