صحت

مونگ پھلی کے فوائد اور افلاٹاکسن کے خطرات: جگر کی صحت پر اثرات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — مونگ پھلی کو صحت بخش غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ تاہم حالیہ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اگر مونگ پھلی افلاٹاکسن سے متاثر ہو تو یہ جگر کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

افلاٹاکسنز کیا ہیں؟
یہ زہریلے کیمیکل ہیں جو پودوں پر لگنے والی کچھ قسم کی فپھوندی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر گرم اور مرطوب ماحول میں۔ مونگ پھلی، مکئی اور دیگر فصلیں ان سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

جگر پر اثرات:
جب انسان افلاٹاکسنز سے آلودہ مونگ پھلی کھاتا ہے تو یہ مادہ جگر کے خلیات میں داخل ہو کر ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جگر کے خلیات میں تبدیلیاں آتی ہیں، جو طویل مدتی طور پر جگر کی بیماری یا کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔

مزید برآں، زیادہ مقدار میں مونگ پھلی کھانے سے جگر میں چربی جمع ہو سکتی ہے، جس سے فیٹی لیور کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر:

مونگ پھلی کو خشک اور ٹھنڈی جگہ پر رکھیں تاکہ فپھوندی نہ لگے۔

روزانہ مناسب مقدار میں مونگ پھلی استعمال کریں۔

اچھی طرح بھون کر کھانے سے افلاٹاکسنز کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی صحت کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن صحیح ذخیرہ، مناسب استعمال اور اچھی پروسیسنگ کے بغیر یہ جگر کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

سرد موسم میں وائرل انفیکشنز سے بچاؤ کے مؤثر طریقے
سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی نزلہ، زکام، فلو، کھانسی اور دیگر سانس کی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں، جو خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعت والے افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ سرد موسم میں بند کمروں میں رہنے سے وائرس کا پھیلاؤ تیز ہو جاتا ہے، کیونکہ خشک ہوا ناک اور گلے کی حفاظتی جھلیوں کو خشک کر دیتی ہے، اور جسم کا مدافعتی نظام بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

بچاؤ کے اہم اقدامات:
1. گرم رہیں
ٹھنڈی ہوا اور بار بار درجہ حرارت کی تبدیلی سے بچیں۔ تہہ دار لباس پہن کر جسم کو سردی سے محفوظ رکھیں۔

2. صحت مند غذا اپنائیں
وٹامن سی اور زنک سے بھرپور غذائیں کھائیں، جیسے سائٹرس پھل، سبزیاں اور خشک میوہ جات۔ پانی، سوپ اور ہربل چائے زیادہ استعمال کریں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے۔

3. صفائی کا خاص خیال رکھیں
ہاتھوں کو بار بار دھونا یا سینیٹائزر کا استعمال کریں۔ کھانسنے یا چھینکنے کے دوران منہ ڈھانپیں اور استعمال شدہ ٹشو فوری پھینک دیں تاکہ وائرس پھیلنے سے روکا جا سکے۔

4. ماسک پہنیں اور فاصلہ برقرار رکھیں
اگر آپ یا کوئی دوسرا نزلہ یا کھانسی میں مبتلا ہو تو قریب نہ جائیں اور ہجوم والی جگہوں پر ماسک پہننا ضروری ہے۔

5. گھریلو ماحول کو صاف اور نمی دار رکھیں
کمرے کی ہوا کی گردش کے لیے روزانہ کھڑکیاں کھولیں۔ ہیٹر کے استعمال سے ہوا خشک ہو جاتی ہے، اس لیے کمرے میں پانی کا پیالہ رکھیں تاکہ نمی برقرار رہے۔

6. فلو ویکسین لگوائیں
سالانہ انفلوئنزا ویکسین خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کے لیے لازمی ہے تاکہ وہ موسمی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button