سوشانت سنگھ راجپوت کے اہلِ خانہ سی بی آئی رپورٹ کو چیلنج کرنے والے، عدالت میں سماعت 20 دسمبر کو
ممبئی/پٹنہ: بالی ووڈ کے آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے اہلِ خانہ نے سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں اداکار کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کی رپورٹ ’نامکمل اور گمراہ کن‘ ہے۔ مارچ 2025 میں جاری کردہ رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ سوشانت سنگھ راجپوت کی موت خودکشی تھی اور ان کی سابقہ ساتھی ریا چکرورتی یا ان کے اہلِ خانہ کے خلاف کسی جرم یا مالی بدعنوانی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
رپورٹ کے مطابق، 8 جون سے 14 جون 2020 تک سوشانت اپنے باندرہ والے فلیٹ میں اکیلے تھے اور اس دوران ریا یا ان کے بھائی شووِک ان سے نہیں ملے۔
تاہم سوشانت کے اہلِ خانہ نے سی بی آئی کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات شفاف نہیں تھیں۔ ان کے وکیل ایڈووکیٹ ورن سنگھ کا کہنا ہے کہ ’اگر سی بی آئی سچ جاننا چاہتی تھی تو اسے تمام شواہد جیسے چیٹس، تکنیکی ڈیٹا، گواہوں کے بیانات اور طبی ریکارڈز جمع کرنے چاہیے تھے۔‘
اہلِ خانہ کا مزید کہنا ہے کہ رپورٹ میں بینک اسٹیٹمنٹس، ڈیجیٹل ریکارڈز اور دیگر اہم شواہد شامل نہیں کیے گئے۔ اس سلسلے میں 20 دسمبر کو پٹنہ کی عدالت میں سماعت ہوگی، جہاں اہلِ خانہ کی جانب سے رپورٹ کے خلاف احتجاجی درخواست دائر کی جائے گی۔
یاد رہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت کی لاش ان کے فلیٹ سے پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی تھی، تاہم اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ سازش کے تحت قتل تھا۔






