انٹرٹینمنٹ

دلجیت دوسانجھ کا بھارتی حکومت و میڈیا پر طنز: "میری فلم پر پابندی، لیکن ایشیا کپ جاری ہے”

کوالالمپور (شوبز ڈیسک) – معروف پنجابی نژاد بالی ووڈ اداکار و گلوکار دلجیت دوسانجھ نے ملائیشیا میں اپنے کنسرٹ کے دوران بھارتی حکومت اور میڈیا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپنی فلم ’سردار جی 3‘ پر لگائی گئی پابندی کو غیرمنطقی اور تضاد پر مبنی قرار دیا۔

"میری فلم حملے سے پہلے بنی، کرکٹ تو بعد میں بھی جاری ہے”

دلجیت دوسانجھ نے کنسرٹ کے دوران حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

"میری فلم ’سردار جی 3‘ کی شوٹنگ فروری میں مکمل ہوئی تھی، جبکہ پہلگام واقعہ اپریل میں پیش آیا۔ ہم سب مجرموں کو سزا دلوانا چاہتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ فلم پر تو پابندی لگا دی گئی، مگر ایشیا کپ جیسے ٹورنامنٹس اب بھی جاری ہیں!”

اداکار نے اس موقع پر واضح کیا کہ وہ صرف دوہرے معیار پر سوال اٹھا رہے ہیں، کیونکہ اگر فلم پر پابندی لگ سکتی ہے تو پھر کرکٹ میچز پر کیوں نہیں؟

ملک سے محبت پر اٹل مؤقف

کنسرٹ کے دوران جب ایک مداح نے بھارتی پرچم لہرایا تو دلجیت دوسانجھ نے احتراماً کہا:

"یہ میرے ملک کا جھنڈا ہے، اس کا ہمیشہ احترام رہے گا۔”

تاہم، انہوں نے بھارتی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:

"میڈیا مجھے ’غدار وطن‘ قرار دینے میں مصروف رہا، لیکن یاد رکھیں: پنجابی اور سکھ کبھی اپنے ملک کے خلاف نہیں جا سکتے۔”

پس منظر: ’سردار جی 3‘ پر پابندی کا تنازع

یاد رہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت میں شدت پسند حلقوں اور فلم فیڈریشن آف انڈیا نے دلجیت کی فلم ’سردار جی 3‘ پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔
حتیٰ کہ دلجیت دوسانجھ کے بائیکاٹ کی بھی مہم چلائی گئی تھی۔
فلم اگرچہ بھارت میں ریلیز نہ ہو سکی، لیکن عالمی سطح پر کامیاب بزنس کرنے میں کامیاب رہی۔

دلجیت دوسانجھ کا مؤقف: ’’انصاف کا یکساں پیمانہ ہونا چاہیے‘‘

اداکار نے اپنی تقریر میں زور دیتے ہوئے کہا کہ:

"ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں، مگر انصاف تب ہی ممکن ہے جب ہر معاملے میں یکساں پیمانہ استعمال کیا جائے۔”

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو غیر ذمہ دارانہ رویہ ترک کرنا چاہیے اور فنکاروں کو سیاسی ہدف بنانے کی روش بند ہونی چاہیے۔

تجزیہ

دلجیت دوسانجھ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہیں، لیکن اس کے باوجود ایشیا کپ 2025 جیسے بڑے ایونٹس کا انعقاد جاری ہے۔ ان کے تبصرے نے نہ صرف بھارتی میڈیا اور حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھایا ہے بلکہ اظہار رائے کی آزادی اور فنکاروں کے کردار پر بھی ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button