منی لانڈرنگ کیس: بھارتی سپریم کورٹ نے جیکولین فرنینڈس کی مقدمہ ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی
ویب ڈیسک: بھارتی سپریم کورٹ نے بالی ووڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس کی جانب سے دائر کی گئی وہ درخواست مسترد کر دی ہے، جس میں انہوں نے 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس کو ختم کرنے کی استدعا کی تھی۔
سپریم کورٹ کا دوٹوک مؤقف
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے جیکولین کی درخواست پر سماعت کے دوران قرار دیا کہ مقدمے کی نوعیت سنگین ہے اور معاملہ قانونی عمل سے گزرے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
پس منظر: سوکیش چندر شیکھر سے تعلق
یہ کیس بھارت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جس کا تعلق مبینہ فراڈ اور بھتہ خوری کے الزامات میں گرفتار سوکیش چندر شیکھر سے ہے، جو ماضی میں جیکولین فرنینڈس کا مبینہ بوائے فرینڈ رہا ہے۔
اداکارہ کو مہنگے تحائف، قانونی دائرے میں گرفت
چندر شیکھر پر الزام ہے کہ اس نے مرکزی وزارتِ قانون کے اعلیٰ افسر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے ایک معروف بزنس مین کی اہلیہ سے ان کے شوہر کی رہائی کے بدلے بڑی رقم حاصل کرنے کی کوشش کی۔
اسی دوران سوکیش نے جیکولین کو مبینہ طور پر قیمتی تحائف دیے، جن کی مالیت کروڑوں میں بتائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے ای ڈی نے جیکولین کو منی لانڈرنگ کیس میں نامزد کر رکھا ہے۔
درخواست پہلے بھی مسترد ہو چکی ہے
اداکارہ جیکولین فرنینڈس نے اس سے قبل جولائی 2023 میں دہلی ہائی کورٹ میں بھی یہی مقدمہ ختم کرنے کی درخواست دی تھی، جو مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، لیکن اب وہاں سے بھی ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔
کیس کا آغاز کب ہوا؟
اس کیس کی بنیاد اگست 2022 میں پڑی، جب دہلی پولیس نے سوکیش چندر شیکھر کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ بعد ازاں تحقیقات میں جیکولین کا نام بھی سامنے آیا، جس پر ای ڈی نے کارروائی کی۔
تجزیہ: بالی ووڈ کی ایک اور بڑی شخصیت قانون کے شکنجے میں
یہ کیس ایک بار پھر بالی ووڈ کی شخصیات کے مالی معاملات اور مشکوک تعلقات کے حوالے سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ جیکولین فرنینڈس، جو فلمی دنیا میں کامیابی کے ساتھ جلوہ گر رہی تھیں، اب ایک پیچیدہ قانونی جنگ کا سامنا کر رہی ہیں۔






