تارا محمود: والد کے دوست کی بیوی بننا میرے کیریئر کا عجیب ترین لمحہ تھا
کراچی – معروف اداکارہ تارا محمود نے اپنے کیریئر کے ایک دلچسپ مگر مشکل ترین لمحے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک سینئر اداکار کے ساتھ ڈرامے میں کام کرنا ان کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بن گیا تھا، کیونکہ وہ شخص ان کے والد کے قریبی دوست تھے۔
عثمان پیرزادہ کے ساتھ کردار ادا کرنا عجیب تجربہ تھا
تازہ ترین پوڈکاسٹ گفتگو میں تارا محمود نے بتایا کہ ایک ڈرامے میں انہیں سینئر اداکار عثمان پیرزادہ کی دوسری بیوی کا کردار ادا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا:
"یہ میرے لیے سب سے غیرمعمولی اور عجیب لمحہ تھا، کیونکہ عثمان پیرزادہ انکل میرے والد کے بہت قریبی دوست ہیں۔ سیٹ پر مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ انہیں ‘انکل’ کہوں یا کردار میں رہوں؟”
اداکاری کے ابتدائی دن – مشکلات، تنہائی اور تاخیر سے ادائیگیاں
اپنے کیریئر کے آغاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے تارا نے کہا کہ:
"شروع میں کام کے مواقع انتہائی محدود تھے۔”
"میں ایک وقت میں صرف ایک یا دو پروجیکٹس کرتی تھی۔”
"سب سے بڑا چیلنج ادائیگیوں کی تاخیر تھی، اور اپنے ہی پیسوں کے لیے بار بار فون کرنا اور یاد دہانی کروانا دل توڑ دینے والا عمل تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ اکیلے رہنے کی وجہ سے کراچی جیسے مہنگے شہر میں مالی دباؤ مزید بڑھ جاتا تھا۔
آج کے حالات بہتر ہیں
تارا محمود کا کہنا تھا کہ اب حالات نسبتاً بہتر ہو چکے ہیں۔ چونکہ وہ بیک وقت متعدد پروجیکٹس میں مصروف ہیں، اس لیے اگر ایک پروجیکٹ کی ادائیگی لیٹ بھی ہو جائے تو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
سپورٹنگ ایکٹرز کو نظرانداز کیا جاتا ہے
انہوں نے شوبز انڈسٹری میں موجود عدم مساوات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
"سپورٹنگ ایکٹرز کو وہ عزت، شہرت اور معاوضہ نہیں ملتا جو انہیں ملنا چاہیے، حالانکہ ہر پروڈکشن میں وہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔”
شادی کے لیے تیار ہوں، اگر صحیح شخص ملا تو!
تارا نے نجی زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ:
"پانچ سال پہلے میں شادی کے بارے میں سوچتی بھی نہیں تھی، لیکن اب میں اس کے لیے تیار ہوں۔ اگر صحیح انسان ملا، تو میں شادی کے لیے ہاں کہہ دوں گی۔”
خلاصہ:
اداکارہ تارا محمود نے اپنے انٹرویو میں نہ صرف انڈسٹری کی تلخ حقیقتوں کو اجاگر کیا بلکہ اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ سفر کے دلچسپ اور جذباتی پہلو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کیے، جسے سوشل میڈیا پر خوب سراہا جا رہا ہے۔






