انٹرٹینمنٹ

"بڑی عمر میں محبت کو معیوب کیوں سمجھا جاتا ہے؟” — سینئر اداکارہ اسماء عباس کا اہم سوال

لاہور ؛پاکستان کی سینئر اور باوقار اداکارہ اسماء عباس نے معاشرتی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی عمر میں محبت یا شادی کو معیوب کیوں سمجھا جاتا ہے؟ کیا اس عمر میں انسان کو محبت یا ساتھی کی ضرورت نہیں ہوتی؟

نجی ٹی وی چینل کے ایک حالیہ پروگرام میں بطور مہمان گفتگو کرتے ہوئے اسماء عباس نے اپنی ذاتی زندگی، شوبز کیریئر اور عمر رسیدہ افراد کے معاشرتی کردار پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

"اب اگر کم کام کروں گی تو یہ میری اپنی مرضی ہو گی”

پروگرام کے دوران میزبان نے ان سے سوال کیا کہ شادی کے بعد انہوں نے کئی برس تک شوبز سے کنارہ کشی اختیار کی، تو کیا اس دوران انہیں زندگی میں کسی کمی کا احساس ہوا؟
جواب میں اسماء عباس نے کہا:

"اس وقت تو ایسا کچھ خاص محسوس نہیں ہوا، لیکن اب جب دوبارہ کام کا آغاز کیا ہے تو اب اسے چھوڑنا مشکل ہے۔ ہاں، اگر کم کام کروں گی تو وہ میری اپنی مرضی سے ہوگا، کیونکہ ایک ہی طرح کے کردار کرتے کرتے اب تھکن ہو گئی ہے۔ اگر مختلف کردار ملیں تو ضرور کام کروں گی، ورنہ مجھے گھر داری میں بھی خوشی ملتی ہے۔”

"ہمیں صرف والدین کے کردار دیے جاتے ہیں”

انہوں نے شکوہ کیا کہ:

"ہمیں صرف ماں یا بزرگ کے روایتی کردار دیے جاتے ہیں۔ ڈراموں میں ایسے موضوعات یا کہانیاں کم ہی لکھی جاتی ہیں جن میں بڑی عمر کے افراد کو مرکزی کردار میں دکھایا جائے۔ حالانکہ اس عمر کے لوگوں کی زندگیاں بھی بہت رنگین، جذباتی اور بامعنی ہوتی ہیں۔”

"کیا بشریٰ انصاری اور ثمینہ احمد نے شادی نہیں کی؟”

اداکارہ نے کہا کہ محبت اور شادی صرف جوانی تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے کسی بھی مرحلے پر انسان کو جذباتی تعلقات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا:

"کیا بشریٰ انصاری یا ثمینہ احمد نے بڑی عمر میں شادی نہیں کی؟ تو کیا ہم ایسی کہانیاں اپنی اسکرین پر نہیں دکھا سکتے؟”

انہوں نے مزید کہا کہ:

"ایسا نہیں ہے کہ بڑی عمر کے لوگ صرف غم زدہ یا بیزار ہوتے ہیں۔ ہم بھی خوش مزاج، زندہ دل اور متحرک زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس زندگی کا وسیع تجربہ ہوتا ہے، جس پر مبنی کہانیاں ناظرین کے لیے نہایت متاثر کن ہو سکتی ہیں۔”

مطالبہ: بڑی عمر کے افراد پر مبنی ڈرامے بنائے جائیں

اسماء عباس کا کہنا تھا کہ ٹی وی ڈرامہ انڈسٹری کو چاہیے کہ وہ ہر عمر کے افراد کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو موضوع بنائے۔ صرف نوجوان محبت یا خاندانی جھگڑوں پر مبنی کہانیاں دکھانے سے معاشرے کی مکمل تصویر پیش نہیں کی جا سکتی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button