انٹرٹینمنٹ

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا سچ: فنکاروں اور عملے کو تاخیر سے ادائیگیاں، تحفظات اور خاموشیاں

کراچی / لاہور:
پاکستان کی شوبز انڈسٹری کا چمکتا دمکتا منظرنامہ درحقیقت کئی فنکاروں، تکنیکی عملے اور ہنرمندوں کے لیے معاشی، جسمانی اور ذہنی دباؤ کا باعث بن چکا ہے۔
حال ہی میں معروف سینئر اداکار محمد احمد، ڈائریکٹر مہرین جبار، اداکارہ صحیفہ جبار خٹک اور حاجرہ یامین نے ڈرامہ انڈسٹری میں جاری ادائیگیوں میں تاخیر اور غیر پیشہ ورانہ رویوں پر کھل کر آواز بلند کی ہے۔

"چھ سے آٹھ ماہ تک ادائیگیاں نہ ہونا معمول ہے” — محمد احمد
سینئر اداکار محمد احمد نے اس نظام کی تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا:

"چھ سے آٹھ ماہ تک ادائیگیوں میں تاخیر کو اب ایک ‘معمول’ سمجھا جاتا ہے۔ فنکاروں کو اپنی ہی محنت کی رقم کے لیے منت سماجت کرنی پڑتی ہے۔ ہمیں بار بار درخواستیں دینی پڑتی ہیں، مالی مسائل سمجھانے پڑتے ہیں، تب جا کر جزوی ادائیگی ملتی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جب مکمل رقم کا مطالبہ کیا جائے تو پروڈکشن ہاؤسز کی طرف سے غیر سنجیدہ جواب آتا ہے کہ:

"ہم نے تو چیک دے دیا ہے، اب اور کیا کریں؟”

"چوٹ لگی، تو بس گھر بھیج دیا گیا” — حاجرہ یامین
اداکارہ حاجرہ یامین نے اپنی ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا:

"شوٹنگ کے دوران ایک بار مجھے چوٹ لگ گئی، تو بغیر کسی دیکھ بھال یا مدد کے صرف گھر بھیج دیا گیا۔”

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ:

"معاہدے فنکاروں کے حق میں نہیں ہوتے۔ اگر آرٹسٹ کی وجہ سے شوٹنگ منسوخ ہو جائے تو جرمانہ دینا پڑتا ہے، لیکن اگر پروڈکشن کی وجہ سے تاخیر یا منسوخی ہو تو وہ ‘جائز’ قرار دی جاتی ہے۔”

"ہر ڈرامے کے بعد مجھے تھراپی کی ضرورت پڑتی ہے” — صحیفہ جبار خٹک
اداکارہ صحیفہ جبار خٹک نے انکشاف کیا کہ:

"ہر پراجیکٹ مکمل کرنے کے بعد مجھے چھ ماہ تک تھراپی کرانی پڑتی ہے کیونکہ ذہنی دباؤ برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔”

انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ:

"معاہدوں میں صحت، سیٹ پر حفاظت، اور ہراسانی سے متعلق واضح شقیں شامل ہونی چاہئیں تاکہ اگر کوئی فنکار زخمی ہو جائے تو پروڈکشن اس کے علاج کا خرچہ برداشت کرے۔”

"سب سے زیادہ استحصال تکنیکی عملے کا ہوتا ہے” — مہرین جبار
مقبول ہدایتکارہ مہرین جبار نے انڈسٹری کے نظرانداز کیے گئے کرداروں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:

"سب سے زیادہ نقصان تکنیکی عملے کو ہوتا ہے — جو درحقیقت کسی بھی پروڈکشن کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:

"یہ لوگ آواز نہیں اٹھاتے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں روزگار سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔”

"خاموشی صرف اس لیے کہ کام نہ چھن جائے”
تمام فنکاروں کا ماننا ہے کہ:

"ہم اکثر خاموش رہتے ہیں تاکہ ہمیں اگلے پروجیکٹس میں کاسٹ کیا جائے، لیکن اب کچھ لوگ سیٹ پر ہی آواز اٹھانے لگے ہیں — کیونکہ یہ سلسلہ بہت آگے نکل چکا ہے۔”

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button