نادیہ حسین اور علی گل پیر کی وکٹم بلیمنگ کے خلاف آواز، سامعہ حجاب واقعے پر دو ٹوک موقف
کراچی – سپر ماڈل نادیہ حسین اور معروف ریپر و کامیڈین علی گل پیر نے سوشل میڈیا انفلوئنسر سامعہ حجاب کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر وکٹم بلیمنگ (متاثرہ کو قصوروار ٹھہرانے) کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے معاشرے کی خطرناک سوچ پر سوال اٹھایا ہے۔
"تشدد ہر رشتے میں ناقابلِ قبول ہے” – نادیہ حسین
نادیہ حسین نے انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ:
"تشدد ہر حال میں قابلِ مذمت ہے، چاہے تعلق کسی بھی نوعیت کا ہو۔”
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کی توجہ اصل مسئلے یعنی تشدد سے ہٹ کر اس بات پر مرکوز ہے کہ سامعہ حجاب کا حملہ آور سے کیا تعلق تھا۔
ان کا کہنا تھا:
"تعلق دوستی کا ہو، منگنی کا یا شادی کا – اگر تشدد ہوا ہے تو اصل مسئلہ وہی ہونا چاہیے۔”
"خاتون کو رشتہ ختم کرنے کا حق حاصل ہے”
نادیہ حسین نے کہا کہ اگر کوئی عورت کسی رشتے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی تو یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ چاہے وہ شادی شدہ ہو یا منگنی شدہ، کسی بھی قسم کی زیادتی پر رشتہ توڑنے کا اختیار عورت کو حاصل ہے۔
انہوں نے وکٹم بلیمنگ کے عمومی رویے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا:
"خواتین کو ہمیشہ موردِ الزام کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ اگر کوئی لڑکی شادی سے پہلے کسی کو جاننا چاہتی ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟”
انہوں نے زور دیا کہ ایسے رویے ہی خواتین کو تشدد، ہراسانی یا زیادتی جیسے واقعات پر آواز بلند کرنے سے روکتے ہیں۔
"عورت کوئی جائیداد نہیں” – علی گل پیر کا ردِ عمل
ادھر، علی گل پیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک صارف کو جواب دیتے ہوئے وکٹم بلیمنگ پر شدید ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا:
"ایسے لوگ ہی ہمارے اس خوبصورت ملک کو عورتوں کے لیے غیر محفوظ بناتے ہیں۔”
علی گل پیر نے ان مردوں کی ذہنیت پر بھی تنقید کی جو سمجھتے ہیں کہ تحائف دینے کا مطلب ہے کہ عورت ان کی ملکیت بن گئی ہے:
"اگر کسی نے تحائف دیے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ انسان کو اپنی جائیداد سمجھیں اور جب چاہیں اغوا کر لیں۔”
سماجی ردعمل اور قانونی پہلو
سامعہ حجاب کے واقعے نے ایک بار پھر معاشرے میں موجود خطرناک رجحانات کو بے نقاب کیا ہے، جہاں متاثرہ فرد کو ہی قصوروار ٹھہرانا عام ہو چکا ہے۔ نادیہ حسین اور علی گل پیر جیسے بااثر افراد کی آواز اس وقت نہایت اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ بحث اب صرف ذاتی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ انسانی حقوق، خواتین کے تحفظ اور عدالتی انصاف جیسے اہم موضوعات سے جُڑی ہے۔






