فن لینڈ میں دنیا کی سب سے بڑی سینڈ بیٹری نصب، 10 ہزار گھروں کو روزانہ توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت
ہیلسنکی (ٹیکنالوجی ڈیسک) — قابل تجدید توانائی کے ذخیرے کی جانب ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے فن لینڈ میں دنیا کی سب سے بڑی "سینڈ بیٹری” (Sand Battery) نصب کر دی گئی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ سینڈ بیٹری فن لینڈ کے جنوبی علاقے پورنینن میں نصب کی گئی ہے، جس کی اونچائی 13 میٹر ہے اور یہ 100 میگا واٹ آور توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے — جو روزانہ تقریباً 10 ہزار گھروں کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
بیٹری کیسے کام کرتی ہے؟
یہ سینڈ بیٹری فنش کمپنی "Polar Night Energy” کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ یہ ایک تھرمل اسٹوریج سسٹم ہے جو قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو استعمال کرتے ہوئے ریت یا مٹی کو تقریباً 500 ڈگری سیلسیئس تک گرم کرتی ہے۔
یہ گرم ریت طویل وقت تک درجہ حرارت برقرار رکھ سکتی ہے۔
جب گرڈ کو بجلی کی ضرورت ہو، تو یہ بیٹری گرم ہوا خارج کرتی ہے۔
اس گرم ہوا کو پانی گرم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو مقامی ہیٹنگ نیٹ ورک میں شامل ہوتا ہے۔
گرمی کی فراہمی کا نیٹ ورک
کینکانپا کے علاقے میں اس سسٹم کے ذریعے گرم پانی گھروں، اسکولوں، دفاتر اور حتیٰ کہ سوئمنگ پولز کو بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ جدید نظام وہاں پہلے سے موجود ووڈ چپ پاور پلانٹ کی جگہ لے چکا ہے، جس کے نتیجے میں کاربن اخراج میں 70 فیصد تک کمی آئی ہے۔
ماحولیاتی اثرات اور مستقبل کی امیدیں
یہ پروجیکٹ اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ صاف توانائی کے نظام میں ذخیرہ شدہ توانائی کو کس طرح مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں موسم زیادہ تر سرد رہتا ہے اور ہیٹنگ کی ضرورت سال کے بیشتر حصے میں ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ ماڈل مستقبل میں دیگر سرد ممالک کے لیے بھی قابل تقلید ہو سکتا ہے، جہاں فوسل فیول پر انحصار کم کر کے ماحولیاتی بہتری لائی جا سکتی ہے۔






