ہڈیوں کی بیماریوں کا خطرہ کن افراد میں زیادہ ہوتا ہے؟
ہڈیوں کی بیماریوں کا سامنا ہر کسی کو ہو سکتا ہے، مگر کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جن میں اس بیماری کا خطرہ دیگر افراد کی نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہڈیوں کی صحت کو متاثر کرنے والے عوامل اور مخصوص گروہ وہ ہیں جو خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔
عمر رسیدہ افراد:
عمر کے ساتھ ہڈیاں کمزور اور پتلی ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر 50 سال کی عمر کے بعد اس خطرے میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
خواتین خصوصاً مینوپاز کے بعد:
ایسٹروجن ہارمون کی کمی کی وجہ سے خواتین میں ہڈیوں کی بیماری، خاص طور پر آسٹیوپوروسس، کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی:
یہ دونوں اجزا ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ ان کی کمی سے ہڈیاں نرم اور کمزور ہو جاتی ہیں، جس سے آسانی سے فریکچر ہو سکتے ہیں۔
جسمانی طور پر غیر فعال افراد:
ورزش نہ کرنے والے یا زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے والے افراد کی ہڈیاں کمزور پڑ جاتی ہیں، اس لیے وزن اٹھانے یا چہل قدمی جیسی سرگرمیاں بہت اہم ہیں۔
خاندانی تاریخ:
اگر خاندان میں کسی کو آسٹیوپوروسس کی تاریخ ہو تو دوسرے افراد کو بھی اس بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
پتلے جسم والے افراد:
خاص طور پر دبلے پتلے جسم والے افراد، جن میں معدنیات کی مقدار کم ہوتی ہے، ان کے ہڈیاں زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔
نشہ آور عادات:
شراب نوشی اور سگریٹ نوشی ہڈیوں کی کثافت کو کم کرتی ہیں، جس سے بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کچھ مخصوص بیماریاں اور دوائیں:
تھائیرائیڈ کی زیادتی، ذیابیطس، گٹھیا، گردوں کے مسائل اور اسٹیرائیڈ دوائیں ہڈیوں کی صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
ہاضمے کے مسائل:
معدے یا آنتوں کی بیماریاں، جیسے سیلیک ڈیزیز اور کروہن کی بیماری، کیلشیم اور وٹامن ڈی کے جذب میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، جس سے ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں۔
ماہرین کا مشورہ:
اپنی ہڈیوں کی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے، خاص طور پر ان افراد کو جو اوپر بیان کیے گئے گروہوں میں آتے ہیں۔ مناسب خوراک، جسمانی سرگرمی اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔






