گردوں کی بیماری کا آسان پتہ! فیس ماسک اب صرف بیماری سے بچاؤ نہیں، بلکہ بیماری کی شناخت کا ذریعہ بھی
واشنگٹن – جہاں دنیا فیس ماسک کو صرف متعدی بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھتی ہے، وہیں **سائنسدانوں نے ایک حیران کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایسا فیس ماسک تیار کر لیا ہے جو انسانی سانسوں سے گردوں کی دائمی بیماری (Chronic Kidney Disease) کا پتہ لگا سکتا ہے۔
امریکی سائنسی جریدے ACS Sensors میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق، سانس میں موجود مخصوص گیسوں کو شناخت کرنے والے حساس سینسرز کو ماسک میں نصب کیا گیا ہے، جو ابتدائی علامات کی مدد سے بروقت تشخیص کو ممکن بناتے ہیں۔
یہ انقلابی ماسک اٹلی کی یونیورسٹی آف روم ٹور ورگاٹا کی نیفرولوجی محقق ڈاکٹر اینالیسا نوس اور ان کی ٹیم نے تیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے:
"اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف گردے کی بیماریوں کی تشخیص میں آسانی ہو گی بلکہ مریض کی حالت میں ہونے والی تبدیلیوں کی بھی بروقت نگرانی ممکن ہو گی۔”
ماہرین کے مطابق امریکا میں تقریباً 35 ملین افراد گردوں کی بیماری میں مبتلا ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے افراد کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ایسے میں یہ ٹیکنالوجی ایک خاموش بیماری کو شناخت کرنے میں نہایت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
صحت عامہ کے ماہرین نے اس اختراع کو "طب کی دنیا میں ایک خاموش انقلاب” قرار دیا ہے، جو مستقبل میں صرف اسپتالوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عام عوام کی زندگی میں بھی تبدیلی لائے گی۔
یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی اور طب کا ملاپ اب انسانی صحت کے لیے نئی راہیں کھول رہا ہے، جہاں ایک معمولی فیس ماسک بھی زندگی بچانے والا آلہ بن سکتا ہے۔






