انٹرٹینمنٹ

سیشن کورٹ لاہور کا حکم: ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی 30 اگست تک گرفتار نہیں ہوں گی

لاہور (کورٹ رپورٹر) – سیشن کورٹ لاہور نے معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کو جوئے کو فروغ دینے سے متعلق مقدمے میں 30 اگست تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے ان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں عروب جتوئی کی جانب سے عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ان کے وکلاء عرفان کلیات اور راجہ عبدالرحمان رانجھا عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ کے خلاف درج مقدمہ بے بنیاد ہے اور گرفتاری کا خدشہ لاحق ہے۔

عدالت کا فیصلہ اور آئندہ لائحہ عمل

عدالت نے عروب جتوئی کو 30 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے عبوری ضمانت منظور کر لی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے انہیں تفتیش میں شامل ہونے اور تفتیشی افسر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر کو کیس کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے، جس سے کیس کی مزید سمت واضح ہوگی۔

پس منظر: کیس کس بارے میں ہے؟

یہ مقدمہ یوٹیوبر ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ کی سوشل میڈیا ویڈیوز سے متعلق ہے جن میں مبینہ طور پر جوئے (آن لائن گیمبلنگ) کو فروغ دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد شہری کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں دونوں شخصیات کو نامزد کیا گیا۔

تجزیہ: سوشل میڈیا اور قانونی حدود

اس کیس کو پاکستان میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی سرگرمیوں اور ان پر ممکنہ قانونی اثرات کے حوالے سے ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف آزادی اظہار رائے کا پہلو ہے، وہیں دوسری جانب قانون کے دائرے میں رہنا بھی لازم ہے، خاص طور پر جب بات عوامی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کی ہو۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button