انٹرٹینمنٹ

فلم "رانجھنا” کا AI سے بدلا گیا اختتام، دھنوش برہم، فلمی دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی

ممبئی (شوبز ڈیسک)
ساؤتھ انڈین فلم ’رانجھنا‘ کے آخری سین کو 12 سال بعد مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے دوبارہ تخلیق کر کے ریلیز کر دیا گیا، تاہم اس تخلیقی تبدیلی نے فلم کے مرکزی اداکار دھنوش اور ہدایتکار آنند ایل رائے کو شدید برہم کر دیا ہے۔

“یہ وہ فلم نہیں رہی جس سے میں جڑا تھا” — دھنوش
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے دھنوش نے کہا:

"AI کے ذریعے فلم کا اختتام بدلنا اصل فن، فنکار اور سینما کی روح کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ وہ فلم نہیں رہی جس سے میں 12 سال پہلے جذباتی طور پر جڑا تھا۔”

انہوں نے اس عمل کو خطرناک رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس طرح فلمی مواد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ معمول بن گئی تو یہ سینما کی میراث کے لیے بڑا خطرہ بن جائے گا۔

ہدایتکار بھی ناراض: “کسی نے ہم سے پوچھا تک نہیں”
فلم کے ہدایتکار آنند ایل رائے نے بھی اس ترمیم پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا:

"نہ ہم سے مشورہ لیا گیا، نہ اطلاع دی گئی۔ یہ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ اخلاقی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔”

انہوں نے AI کے بے لگام استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فلمسازوں اور تخلیقی ٹیم کو بائی پاس کر کے AI ترمیم کی اجازت دی گئی تو مستقبل میں یہ بہت خطرناک نتائج لا سکتی ہے۔

صارفین کا ملا جلا ردعمل
سوشل میڈیا پر مداحوں اور صارفین کی رائے منقسم دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ صارفین نے AI کے ذریعے سین کو "دلچسپ” اور "جدید” قرار دیا، جبکہ اکثریت نے دھنوش اور آنند رائے کی حمایت کرتے ہوئے اسے فنکاروں کی محنت کی توہین کہا۔

پس منظر:
فلم ’رانجھنا‘ 2013 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس میں دھنوش، سونم کپور، اور محمد ذیشان ایوب نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ فلم نے ناظرین کے دل جیتے اور دھنوش کو بولی وڈ میں بھی شناخت دلائی۔

اہم سوال: کیا AI سینما کا مستقبل ہے یا خطرہ؟
یہ تنازع فلمی دنیا میں ایک بڑی بحث کو جنم دے چکا ہے — کیا AI تخلیق کو نکھار سکتا ہے یا یہ اصل فنکاروں کی شناخت اور تخلیقی حقوق کو خطرے میں ڈال دے گا؟

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑہیں
Close
Back to top button