"لیونارڈو کی اسرائیل سرمایہ کاری پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید”
امریکی اداکار و فلم پروڈیوسر لیونارڈو ڈی کیپریو ایک بار پھر تنازعے میں پھنس گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، لیونارڈو ڈی کیپریو اسرائیل کے شہر ہرزلیہ میں ایک پُرتعیش ’ایکو ہوٹل‘ کی تعمیر میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جسے حال ہی میں تل ابیب کی ڈسٹرکٹ پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی نے منظوری دی ہے۔
یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے فلسطین پر تقریباً 22 ماہ سے جاری جنگ مسلط رکھی ہوئی ہے، جس کے دوران 60 ہزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی اداروں نے اسرائیل کو نسل کشی کے سنگین الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
لیونارڈو ڈی کیپریو کی اس سرمایہ کاری کا منصوبہ 10 ملین ڈالر کا ہے، جس میں ان کے 10 فیصد شیئرز شامل ہیں۔ اس منصوبے کو اسرائیلی کمپنی ’ہگاگ گروپ‘ اور دیگر سرمایہ کاروں کے تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
اس سرمایہ کاری پر دنیا بھر میں لیونارڈو کے مداح اور سوشل میڈیا صارفین شدید ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے ’نسل کشی میں بالواسطہ شراکت‘ قرار دے رہے ہیں۔ امریکی سماجی کارکن اور لکھاری شان کنگ نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ "جب غزہ بھوک اور جنگ سے تباہ ہو رہا ہے، لیونارڈو ڈی کیپریو اسرائیل میں ایک 14 منزلہ ہوٹل بنا رہا ہے۔” انہوں نے اداکار پر اس انسانی بحران میں منافع کمانے کا الزام بھی عائد کیا۔
اب تک لیونارڈو ڈی کیپریو کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان یا وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم سوشل میڈیا پر ان کے اس فیصلے پر تیز تنقید جاری ہے۔






