انٹرٹینمنٹ

"رشتے ختم ہو سکتے ہیں، مگر احترام باقی رہتا ہے” — آصف رضا میر اور سجل علی کا باوقار فنکارانہ اتحاد

کراچی: پاکستان کے سینئر اور قابلِ احترام اداکار آصف رضا میر نے حالیہ انٹرویو میں اپنے بیٹے احد رضا میر اور سابقہ بہو سجل علی کی علیحدگی سے متعلق خاموشی توڑتے ہوئے ایک مثبت اور بالغ نظری پر مبنی مؤقف اختیار کیا، جسے سن کر مداح داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے آصف رضا میر نے نہ صرف سجل علی کے ساتھ اپنے نئے ڈرامہ سیریل "میں منٹو نہیں ہوں” میں کام کرنے کی تصدیق کی، بلکہ اس حساس موضوع پر کھلے دل سے بات کی، جس نے سوشل میڈیا پر تعریفوں کے در وا کر دیے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اس ڈرامے میں سجل علی کے والد کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ دونوں فنکاروں نے ذاتی اختلافات کو کام کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

"ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم پروفیشنل آرٹسٹ ہیں۔ رشتے ختم ہو سکتے ہیں، مگر احترام باقی رہنا چاہیے،” آصف رضا میر کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور مداحوں کی جانب سے اسے بالغ نظری، پیشہ ورانہ مہارت اور فن سے محبت کی بہترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے سجل علی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا، "سجل کا یہ قدم نہ صرف حوصلے کی علامت ہے بلکہ ان کی فنی وابستگی اور ذہانت کا بھی ثبوت ہے۔”

مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ باوقار رویہ شوبز انڈسٹری میں پروفیشنلزم کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، جہاں ذاتی جذبات کو فن کی راہ میں رکاوٹ بنانے کے بجائے باہمی احترام اور کام سے محبت کو فوقیت دی جا رہی ہے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button