قربانی کے جانوروں کی قیمتیں یا جائیداد؟ نعمان اعجاز کی پوسٹ پر سوشل میڈیا پر دلچسپ بحث
لاہور: پاکستان کے سینئر اور معتبر اداکار نعمان اعجاز کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر کیے گئے تبصرے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں کچھ صارفین نے ان کی پوسٹ کو مہنگائی کی نشاندہی قرار دیا، وہیں کچھ افراد نے اسے قربانی کی روح کے خلاف سمجھتے ہوئے تنقید کی۔
نعمان اعجاز نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا:
"سب کو آئی فون مہنگا لگتا ہے لیکن جیسے ہی قربانی کے جانور لینے جاتے ہیں تو لگتا ہے جیسے بیوپاری جائیداد کے کاغذات مانگ رہے ہوں۔ بھائی، ذرا قربانی کا جانور لینے تو جائیں!”
اداکار نے اس سے قبل بھی ایک پوسٹ میں مرغی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا تھا کہ اگر یہ بھی منڈی میں کھڑی ہو تو بیوپاری قیمت لاکھ روپے مانگیں گے۔ ان کے اس تبصرے کو سوشل میڈیا پر کافی پذیرائی ملی تھی، اور صارفین نے قربانی کے جانوروں کی بے قابو قیمتوں پر سوالات اٹھائے تھے۔
تاہم نئی پوسٹ پر ردعمل کچھ مختلف نظر آیا۔ بعض صارفین نے قربانی جیسے مذہبی عمل کو مہنگائی سے جوڑنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا: "اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے پہلے مہنگائی یاد آ جاتی ہے، لیکن فون لیتے وقت نہیں؟” جبکہ ایک اور صارف نے کہا: "اگر قربانی نہیں کر سکتے تو نہ کریں، مگر اس کا مذاق نہ اڑائیں۔”
دوسری طرف، کئی صارفین نے نعمان اعجاز کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف معاشرتی حقیقت کی جانب توجہ دلا رہے ہیں۔ ایک مداح نے لکھا: "نعمان اعجاز قربانی کی روح کو نہیں، بلکہ بیوپاریوں کی من مانی قیمتوں پر بات کر رہے تھے۔”
اداکار کی پوسٹ نے یہ واضح کر دیا کہ قربانی صرف مذہبی فریضہ ہی نہیں، بلکہ معاشی پہلوؤں سے جڑا ایک اہم موضوع بھی ہے، جس پر کھل کر بات کرنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر عوامی آگاہی، اعتدال اور برداشت کے کلچر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔






