شیما کرمانی کا پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو مثبت بیانیے کی جانب موڑنے کا پیغام
کراچی: معروف رقاصہ، سماجی کارکن اور خواتین کے حقوق کی پُرجوش علمبردار شیما کرمانی نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے طاقتور پلیٹ فارم کو معاشرتی اصلاح، ہمدردی اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں شیما کرمانی نے ڈراموں کے مواد پر تنقیدی مگر تعمیری انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کے ڈرامے حقیقی زندگی سے ہٹ کر یکطرفہ اور منفی بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں، جو معاشرے میں غلط فہمیوں اور بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔
ڈرامے کو اصلاحی پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت
شیما کرمانی کا کہنا تھا:
"ڈرامہ ایک طاقتور ذریعہ اظہار ہے، اسے ایسے بیانیے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جو معاشرتی بہتری، ہم آہنگی، اور حقیقی مسائل کی عکاسی کرے، نہ کہ سنسنی خیز اور منفی تاثر دینے والے موضوعات کے لیے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر کہانی میں ساس کو سازشی، یا شوہر کو بے وفا دکھانا معاشرتی تاثر کو بگاڑنے کا باعث بن رہا ہے، حالانکہ زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔
مردوں کے کردار اور تربیت پر بھی روشنی
شیما کرمانی نے موجودہ نسل میں مردوں کے رویوں میں بڑھتی سختی اور خود پسندی کا تعلق میڈیا اور آمریت کے زیرِ اثر بیانیے سے جوڑا، جو برسوں سے اسکرین پر مسلط رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کے مزاج پر وہ کہانیاں اثر انداز ہوتی ہیں جو وہ روزانہ کی بنیاد پر دیکھتے ہیں۔
میڈیا سے سماجی ذمے داری نبھانے کی اپیل
انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ سماجی ذمے داری کا احساس کریں اور ایسے موضوعات پر مبنی مواد تخلیق کریں جو خواتین کے حقوق، خاندان کے استحکام، تعلیم، رواداری اور ہم آہنگی جیسے پہلوؤں کو اجاگر کرے۔
مثبت مثالیں بھی موجود ہیں
شیما کرمانی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ کچھ ڈرامے مثبت بیانیہ سامنے لا رہے ہیں، اور ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ انفرادی سطح پر کامیابی سے آگے بڑھ کر انڈسٹری کو اجتماعی طور پر ایک نئے سوچ کے سفر کی طرف بڑھنا ہوگا۔






