انٹرٹینمنٹ

رجب بٹ کی بیوی سے بدسلوکی کے الزامات پر وضاحت: "میرا رشتہ کیمرے کے لیے نہیں، حقیقت کے لیے ہے”

لاہور – پاکستان کے مقبول یوٹیوبر اور ڈیجیٹل کریئیٹر رجب بٹ نے اپنی اہلیہ ایمان کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے الزامات پر ایک وضاحتی ویڈیو بیان جاری کر دیا ہے، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

رجب بٹ، جن کے یوٹیوب پر 6.77 ملین سبسکرائبرز اور انسٹاگرام پر 1.9 ملین فالوورز ہیں، پاکستان میں فیملی وی لاگنگ کے نمایاں چہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی ویڈیوز میں ان کے والدین، بہن اور اہلیہ ایمان بھی اکثر دکھائی دیتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے مداح ان کے خاندانی ماحول سے خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

تاہم حالیہ دنوں ایک ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے الزام عائد کیا کہ رجب بٹ اپنی اہلیہ کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کرتے ہیں، انہیں ویڈیوز میں نظر انداز کرتے ہیں یا احترام نہیں دیتے۔

اس کے جواب میں رجب بٹ نے ایک جذباتی ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا:

"ایمان ایک حساس لڑکی ہے، وہ بیمار ہے، اس لیے ویڈیوز میں نظر نہیں آ رہی۔ وہ کیمرے کے سامنے اداکاری نہیں کر سکتی۔ ہاں، میں ویڈیوز میں اسے نظر انداز کرتا ہوا لگتا ہوں، کیونکہ وہ میرے لیے صرف آن-اسکرین شریک حیات نہیں، میری حقیقی بیوی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی شادی کو پانچ ماہ ہوئے ہیں اور وہ ایک شوہر کے طور پر اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ جب تک ڈاکٹرز اجازت نہیں دیں گے، ایمان ویڈیوز میں شرکت نہیں کرے گی۔

رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر موجود منفی اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"سوشل میڈیا پہلے ہی کئی رشتے خراب کر چکا ہے، میں اپنے رشتے کو خراب نہیں ہونے دوں گا۔ جو کچھ میرے پاس ہے، وہ میری ماں، بہن اور بیوی کا ہے۔”

رجب بٹ کی وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا پر ردِعمل مخلوط رہا۔ کچھ صارفین نے ان کی وضاحت کو سراہا، جبکہ دیگر نے سوالات اٹھائے کہ "اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو وضاحت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟”

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ذاتی زندگی اور عوامی زندگی کے درمیان حدیں دھندلی ہوتی جا رہی ہیں، اور ہر قدم ناظرین کی کڑی نظر میں ہوتا ہے۔ اس موقع پر دونوں اطراف کو بردباری، سمجھداری اور احترام کا دامن تھامنے کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button