صحت

کتنی بار پیشاب آنا نارمل ہے؟ عمر کے لحاظ سے جاننا ضروری!

اسلام آباد: صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پیشاب کی روزمرہ مقدار اور اس کی بار بار حاجت عمومی صحت کا آئینہ ہوتی ہے، لیکن اگر اس میں معمول سے زیادہ یا کم تبدیلی آئے تو یہ کسی جسمانی خرابی کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

عمر، پانی کی مقدار، خوراک، دوائیاں، اور صحت کی عمومی حالت پیشاب کی مقدار پر اثر انداز ہوتی ہیں، لیکن پھر بھی ہر عمر میں ایک عمومی "نارمل رینج” موجود ہے جس سے ہٹ کر علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

مختلف عمروں میں پیشاب کی نارمل تعداد:
👶 بچے (1 تا 12 سال):

دن میں: 6 سے 8 بار

رات میں: عموماً 1 بار (خصوصاً کم عمر بچوں میں)

🧒 نوجوان و بالغ افراد (13 تا 60 سال):

دن میں: 4 سے 7 بار

اگر پانی زیادہ پیا جائے تو 8 بار تک بھی نارمل سمجھا جاتا ہے۔

👵 معمر افراد (60 سال سے زائد):

دن میں: 5 سے 8 بار

رات میں: 1 سے 2 بار
نوٹ: عمر کے ساتھ مثانے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے اور بار بار پیشاب یا پیشاب پر قابو نہ رہنے کی شکایت بڑھ سکتی ہے۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟
اگر آپ کو درج ذیل علامات کا سامنا ہے تو فوری معالج سے رابطہ کریں:

1️⃣ دن میں 10 بار سے زائد پیشاب آنا (Polyuria)
2️⃣ رات میں 2 بار سے زیادہ جاگ کر پیشاب جانا (Nocturia)
3️⃣ پیشاب کے دوران جلن یا درد
4️⃣ بہت کم پیشاب آنا — یومیہ 400 ملی لیٹر سے کم (Oliguria)
5️⃣ پیشاب میں خون آنا یا بدبو کا آنا

احتیاط اور صحت مندی کا پیغام
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیشاب کی معمول کی مقدار میں اچانک کمی یا زیادتی کو نظر انداز نہ کریں، کیونکہ یہ گردے، مثانے یا دیگر اندرونی مسائل کی علامت ہو سکتی ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی، مناسب پانی پینا اور بروقت طبی مشورہ لینا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button