بھارتی اداکارہ چھایا قدم کے جنگلی جانوروں کے گوشت سے متعلق بیان پر محکمہ جنگلات نے تحقیقات شروع کر دیں
ممبئی – معروف بھارتی اداکارہ چھایا قدم ایک انٹرویو کے دوران دئیے گئے اپنے بیان کے بعد تنازع کا شکار ہو گئی ہیں، جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے جنگلی جانوروں جیسے مانیٹر لیزارڈ (گو) اور سیہہ (خارپشت) کا گوشت کھایا ہے۔
یہ دونوں جانور قانونی طور پر محفوظ اور معدومی کے خطرے سے دوچار اقسام میں شامل ہیں، اور ان کا شکار یا استعمال بھارتی جنگلاتی قوانین کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔ چھایا قدم کے بیان کے بعد جانوروں کے حقوق کی تنظیم "پلانٹ اینڈ اینیمل ویلفیئر سوسائٹی” نے اداکارہ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی ہے۔
رپورٹس کے مطابق محکمہ جنگلات نے بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور اداکارہ کو تفتیش کے لیے جلد طلب کیے جانے کا امکان ہے۔ فی الحال چھایا قدم شہر سے باہر ہیں اور حکام سے فون پر رابطے میں ہیں۔
اداکارہ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں صارفین نے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ مشہور شخصیات کے بیانات کا معاشرے پر اثر ہوتا ہے، اس لیے ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو اختیار کرنا ضروری ہے۔
اداکارہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم جانوروں کے تحفظ کی حامی تنظیمیں اور شہری حلقے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔






