سائنس ٹیکنالوجی

بحر الکاہل میں زیرِ آب آتش فشاں متحرک ہونے لگا، سائنس دانوں کی نئی وارننگ

واشنگٹن – سائنس دانوں نے بحر الکاہل کے شمال مغرب میں واقع ایک زیرِ آب آتش فشاں کے ایک بار پھر پھٹنے کے امکان سے خبردار کیا ہے۔ یونیورسٹی آف واشنگٹن کے محققین کا کہنا ہے کہ "ایکسیئل سی ماؤنٹ” نامی یہ آتش فشاں پھٹنے سے پہلے کی معروف علامات ظاہر کر رہا ہے۔

امریکی ریاست اوریگون کے ساحل سے سیکڑوں میل کے فاصلے پر، تقریباً 5000 فٹ کی گہرائی میں واقع یہ زیرِ آب آتش فشاں 1998، 2011 اور 2015 میں بھی پھٹ چکا ہے، اور سائنس دانوں کے مطابق موجودہ صورتحال ان سابقہ ادوار سے مشابہ ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن سے وابستہ پروفیسر ولیم ولکاک کے مطابق، وقت کے ساتھ آتش فشاں کے نیچے میگما (لاوا جیسا مواد) جمع ہوتا جا رہا ہے جس سے اس کی سطح "پھول” رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "اگرچہ ہمیں درست وقت معلوم نہیں، لیکن کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ پھولنے کا حجم آتش فشاں کے پھٹنے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہوتا ہے، تو ہم اس آتش فشاں کے پھٹنے کے بہت قریب ہیں۔”

اگرچہ فی الحال اس سے فوری زمینی خطرہ موجود نہیں کیونکہ یہ آتش فشاں گہرے پانی میں واقع ہے، لیکن ماہرین اس کی سرگرمیوں کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ سمندری زلزلے یا سونامی جیسے خطرے سے بروقت خبردار کیا جا سکے۔

یہ تحقیق نہ صرف موجودہ آتش فشانی خطرے کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہے بلکہ زیرِ آب آتش فشانی سرگرمیوں کی پیشگوئی کے لیے مستقبل میں استعمال ہونے والے ماڈلز کی تیاری میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button