سائنس ٹیکنالوجی

برطانوی کمپنی کی زیر آب بیس بنانے کی تیاری

لندن (سائنس و ٹیکنالوجی نیوز) – سمندر کی گہرائیوں میں چھپے رازوں کو دریافت کرنے کے لیے اب انسانوں کا زیرِ آب قیام حقیقت بننے جا رہا ہے۔ برطانوی کمپنی ’ڈیپ‘ (DEEP) نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا کی پہلی فعال زیرِ آب انسانی بیس “وینگارڈ” (Vanguard) قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، وینگارڈ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس میں چار افراد پر مشتمل عملہ ایک وقت میں سات یا اس سے زیادہ دن تک سمندر کی تہہ میں قیام کر سکے گا۔ یہ بیس سمندر کی گہرائی میں تنصیب کی جائے گی، جہاں سائنس دان بغیر سطحِ زمین پر واپس آئے اپنی تحقیق جاری رکھ سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق، یہ منصوبہ سمندری حیات، کورل ریفس اور زیرِ آب ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں انقلابی پیش رفت ثابت ہوگا۔ اس بیس کے ذریعے محققین کو طویل مدتی تجربات اور مشاہدات کرنے کا موقع ملے گا، جو پہلے ممکن نہیں تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا زیرِ آب ماحول مستقبل میں خلائی مشنوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں موجود دباؤ اور محدود وسائل کا تجربہ خلانوردوں کی تربیت میں مدد دے گا۔
کمپنی “ڈیپ” نے بتایا کہ منصوبے کی تیاری کے بعد ابتدائی تجربات آئندہ چند برسوں میں شروع کیے جائیں گے۔ اگر تجربات کامیاب ہوئے تو وینگارڈ دنیا کا پہلا ایسا مستقل زیرِ آب تحقیقی مرکز بن جائے گا جو انسانوں کو سمندر کی تہہ میں طویل عرصے تک رہنے کے قابل بنائے گا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button