صحت

چربی دار جگر کی بیماری میں ہائی بلڈ پریشر موت کے خطرے کو بڑھاتا ہے، نئی تحقیق

لاس اینجلس: ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چربی دار جگر (فیٹی لیور) کی بیماری میں مبتلا افراد میں موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اگر انہیں تین اضافی طبی مسائل میں سے کم از کم ایک لاحق ہو، خاص طور پر ہائی بلڈ پریشر۔

موت کے خطرات اور طبی مسائل
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، اور کم ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح چربی دار جگر کے مریضوں میں موت کے امکانات کو بڑھاتے ہیں، جن میں ہائی بلڈ پریشر سب سے زیادہ خطرناک پایا گیا۔

ڈاکٹر میتھیو ڈیوکویچ کا بیان
یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے ٹرانسپلانٹ ہیپاٹولوجی فیلو اور تحقیق کے لیڈ محقق ڈاکٹر میتھیو ڈیوکویچ نے کہا:

"روایتی طور پر ذیابیطس کو چربی دار جگر کے مریضوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر ہماری تحقیق نے ہائی بلڈ پریشر کو موت کے سب سے زیادہ جُڑے خطرے کے طور پر نمایاں کیا ہے۔”

فیٹی لیور بیماری اور اس کے اثرات
محققین کے مطابق، دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو فیٹی لیور بیماری ہے، جسے میٹابولک dysfunction سے وابستہ اسٹی ایٹوٹک جگر کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری جگر میں چربی کے جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے، جو جگر کے بافتوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور داغ چھوڑتی ہے۔

متعلقہ صحت کے مسائل
چربی دار جگر عموماً دیگر متعدد طبی مسائل کے ساتھ منسلک ہوتی ہے، جن میں شامل ہیں:

موٹاپا

ٹائپ 2 ذیابیطس

ہائی بلڈ پریشر

زیادہ بلڈ شوگر

کم ایچ ڈی ایل کولیسٹرول

نتیجہ:
ماہرین کا کہنا ہے کہ چربی دار جگر کے مریضوں کے لیے اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے، خاص طور پر بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا تاکہ موت کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button