سائنس ٹیکنالوجی

نیا انکشاف: بڑے انگوٹھے، بڑا دماغ؟ بندروں پر تحقیق نے حیران کن تعلق ظاہر کر دیا

لندن: ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جن بندروں کے انگوٹھے نسبتاً بڑے ہوتے ہیں، ان کے دماغ — خاص طور پر نیوکورٹیکس (Neocortex) — بھی بڑے ہوتے ہیں۔ یہ حصہ دماغ کا وہ اہم علاقہ ہے جو شعور، حِس اور عمل کی منصوبہ بندی سے جڑا ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کی ماہر ڈاکٹر جوانا بیکر کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق میں 94 مختلف پرائمیٹس (بندروں، لیمرز، قدیم انسان نما انواع، اور انسانوں) کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج نے یہ ثابت کیا کہ ہاتھ کے انگوٹھے کے سائز اور دماغ کے حجم کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے — اور یہ صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ تقریباً تمام پرائمیٹس میں دیکھا گیا۔

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ سائنس دانوں کو ابتدا میں توقع تھی کہ یہ تعلق cerebellum (دماغ کا وہ حصہ جو حرکت اور توازن کو کنٹرول کرتا ہے) سے ہوگا، لیکن نتائج نے ظاہر کیا کہ اصل تعلق تو نیوکورٹیکس سے ہے، جو سوچنے، سمجھنے اور منصوبہ بندی جیسے اعلیٰ دماغی افعال کا مرکز ہے۔

تحقیق کا اہم نکتہ یہ ہے کہ جیسے جیسے بندروں کی ہاتھ سے کام لینے کی مہارت بڑھی، ویسے ویسے ان کے دماغ کا وہ حصہ بھی ترقی کرتا گیا جو ذہانت اور شعور سے جڑا ہے۔ گویا ہاتھ اور دماغ کا ارتقاء ایک ساتھ ہوا۔

یہ تحقیق نہ صرف انسانی دماغ کی ترقی کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم جس ذہانت پر فخر کرتے ہیں، اس کی بنیاد ہمارے "ہوشیار ہاتھوں” نے ہی رکھی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button