سائنس ٹیکنالوجی

مٹی میں تیزی سے تحلیل ہونیوالی پلاسٹک تیار

سائنس دانوں نے دودھ، نشاستہ اور نینو کلے سے بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک بنایا: مٹی میں تیزی سے تحلیل ہونے والا ماحول دوست مواد

سائنس دانوں نے دودھ کے پروٹینز، نشاستہ (اسٹارچ) اور نینو کلے کے مرکب سے ایک ایسا بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک تیار کیا ہے جو مٹی میں تیزی سے تحلیل ہو سکتا ہے، اور اس کا مقصد پلاسٹک کی آلودگی کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔

تحقیق کی تفصیلات:

حال ہی میں جرنل پولیمرز میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے دودھ کے پروٹین کیسینیٹ، تبدیل شدہ نشاستہ اور بینٹونائٹ نینو کلے کو آپس میں ملا کر ایک بائیو ڈیگریڈ ایبل فلم تیار کرنے کے بارے میں بتایا۔ اس مرکب میں گلائسرول اور پولی ونائل الکوحل بھی شامل کیے گئے تاکہ مواد کی مضبوطی اور لچک میں اضافہ کیا جا سکے۔

مٹیریل کی خصوصیات:

مٹی میں تحلیل: تحقیق کے مطابق، اس بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک کو مٹی میں دفن کرنے پر 13 ہفتوں کے اندر مکمل طور پر تحلیل ہوتے ہوئے پایا گیا۔

زہر کی سطح: ٹیسٹ میں پلاسٹک کے تجزیے کے دوران زہر کی سطح کم دیکھی گئی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ماحول کے لیے محفوظ ہے۔

مائیکروبائل ٹیسٹنگ: مٹی میں ڈالنے کے باوجود بیکٹیریا کی سطح معمول پر رہی، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ پلاسٹک مٹی کے ماحول میں توازن قائم رکھتا ہے اور مائیکروبیل زندگی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

ماحول دوست مواد کا فائدہ:

اس تحقیق کا مقصد روایتی پلاسٹک کی جگہ ایک ایسا مواد تیار کرنا ہے جو ماحول میں کم نقصان دہ ہو اور اس کے مکمل طور پر تحلیل ہونے کے بعد مٹی کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ روایتی پلاسٹک کئی دہائیوں تک زمین میں تحلیل نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے آلودگی اور مٹی کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔ لیکن یہ بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک مٹی میں تیزی سے تحلیل ہو کر قدرتی نظام میں ضم ہو سکتا ہے، جو کہ ماحول دوست حل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

مستقبل کی امیدیں:

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اس نئی تحقیق کی بنیاد پر تیار ہونے والا بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک مختلف صنعتی اور تجارتی استعمالات میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ دودھ، نشاستہ اور نینو کلے کی اس کمیبینیشن کا استعمال ماحول دوست پلاسٹک کی تیاری میں ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مواد خاص طور پر کھانے پینے کی صنعت، پیکجنگ اور دیگر شعبوں میں استعمال کے قابل ہوگا۔

یہ تحقیق نہ صرف پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف ایک مضبوط قدم ہے، بلکہ اس سے ہمیں قدرتی وسائل کا بہتر استعمال اور ماحول کا تحفظ کرنے کا موقع ملے گا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button