نئی تحقیق: 2025 میں اے آئی سسٹمز نے نیو یارک شہر سے زیادہ کاربن خارج کیا
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز میں چلنے والے مصنوعی ذہانت (AI) نظام نے 2025 میں نیو یارک شہر کے کل کاربن اخراج سے بھی زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کی ہے۔
تحقیق کے مطابق، ڈیٹا سائنٹسٹ ایلکس ڈی وریز-گاؤ نے تخمینہ لگایا کہ AI کے لیے استعمال ہونے والی بجلی سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے 8 کروڑ میٹرک ٹن کاربن کا اخراج ہوا۔
یہ 8 کروڑ میٹرک ٹن کاربن کا اخراج کئی ممالک کے سالانہ کاربن اخراج سے زیادہ ہے، جن میں شامل ہیں:
چلی: 7 کروڑ 80 لاکھ ٹن
چیک ریپبلک: 7 کروڑ 80 لاکھ ٹن
رومانیہ: 7 کروڑ 10 لاکھ ٹن
نیو یارک سٹی: 4 کروڑ 80 لاکھ ٹن (کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسز سمیت)
ایلکس ڈی وریز-گاؤ نے خبردار کیا کہ بڑی AI کمپنیوں کی جانب سے شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ تخمینے مکمل طور پر حتمی نہیں ہیں، مگر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ AI سسٹمز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ماحول پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔






