صحت

تحقیق: شوگر فری مصنوعات میں سوربیٹل جگر کی مہلک بیماری کا سبب بن سکتی ہے

نئی دہلی: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شوگر فری مصنوعات میں استعمال ہونے والی عام مصنوعی مٹھاس سوربیٹل جگر کی مہلک بیماری کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق سوربیٹل کے زیادہ استعمال سے جگر میں خطرناک حد تک چکنائی جمع ہو سکتی ہے، جو میٹابولک ڈِس فنکشن-ایسوسی ایٹڈ اسٹیئٹوٹک لیور ڈیزیز (MASLD) کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ بیماری پہلے نان-الکوحلک فیٹی لیور ڈیز کے نام سے جانی جاتی تھی اور شراب نوشی سے متعلق نہیں ہے، حالانکہ جگر کے مسائل کا سب سے عام سبب شراب نوشی ہی ہے۔

جرنل سائنس سگنلنگ میں شائع تحقیق میں زیبرا فش کے پیٹ کے مائیکرو بائیوم کا تجزیہ کیا گیا، جو اربوں مفید بیکٹیریا اور فنگئی پر مشتمل ایک قدرتی ایکو سسٹم ہے، اور غذا کے ہضم و جذب میں مدد دیتا ہے۔ محققین نے معلوم کیا کہ جب مائیکرو بائیوم میں کمی واقع ہو جائے تو سوربیٹل جگر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ معمول کی غذا کے باوجود جگر میں چکنائی جمع ہو جاتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ معمول کے مائیکرو بائیوم میں موجود بیکٹیریا سوربیٹل کو تحلیل کر کے جگر کو نقصان سے بچاتے ہیں، لیکن مائیکرو بائیوم کی کمی اس تحفظ کو ختم کر دیتی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button