صحت

پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل: اعداد و شمار اور تشویش ناک حقیقت

کراچی: حالیہ دنوں میں کراچی میں منعقدہ 26ویں بین الاقوامی کانفرنس برائے دماغی بیماری میں پاکستان میں ذہنی صحت کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 34 فیصد آبادی کسی نہ کسی قسم کی ذہنی بیماری سے متاثر ہے، جبکہ گزشتہ سال ملک میں تقریباً 1000 خودکشیاں ذہنی پریشانی کے باعث ہوئیں۔

کانفرنس کے دوران ماہرین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ معاشی مشکلات، سماجی دباؤ، اور بار بار آنے والی قدرتی آفات نے پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ہر تین میں سے ایک پاکستانی اور عالمی سطح پر پانچ میں سے ایک فرد ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہے۔ ڈپریشن، بے چینی، اور منشیات کی لت ان میں سے سب سے عام مسائل ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل کا شکار افراد میں خواتین کی تعداد خاص طور پر بڑھ رہی ہے۔ گھریلو جھگڑوں اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے خواتین میں ڈپریشن کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خواتین کو محدود بااختیار بنانے اور سماجی تناؤ کا سامنا کرنے کی وجہ سے ان میں اضطراب اور جذباتی تناؤ کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

دماغی صحت کے اثرات:
کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار نے یہ واضح کیا کہ ذہنی صحت کے مسائل نہ صرف افراد کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو نظر انداز کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے جو زندگی کی مختلف سطحوں پر تباہ کن اثرات ڈال سکتا ہے، خاص طور پر جب یہ تشویشناک صورتحال میں پہنچ جائے۔

دماغی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات:
کانفرنس میں کہا گیا کہ ذہنی بیماریوں کے علاج اور آگاہی کے لیے مناسب اقدامات ضروری ہیں۔ پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے میں مزید وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام میں اس حوالے سے شعور بڑھایا جا سکے اور ذہنی بیماریوں کے شکار افراد کو بہتر علاج فراہم کیا جا سکے۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشرتی سطح پر اس بات کا شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کسی بھی فرد کو متاثر کر سکتے ہیں اور ان کا علاج ممکن ہے۔ اس کے لیے حکومت کو مناسب پالیسیوں اور فنڈز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button